کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اپنے اور اپنے بیٹے کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی مواد نشر کرنے والے نامعلوم اکاؤنٹس کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے رجوع کرلیا۔
گیسٹ ہاؤس کی ملکیت
شرجیل میمن کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ان کی اور ان کے بیٹے کی ساکھ متاثر کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔
درخواست میں گلستانِ جوہر کے ایک گیسٹ ہاؤس کو شرجیل میمن کی ملکیت قرار دینے کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کے بیٹے کے لندن جانے اور سیکیورٹی گارڈ رکھنے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کی بھی تردید کی گئی ہے۔
تحقیقات میں روکاوٹ کی تردید
شرجیل میمن نے میڈیکل بورڈ تبدیل کیے جانے اور تحقیقات میں مبینہ رکاوٹ ڈالنے سے متعلق الزامات کو بھی غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دعوؤں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کم از کم چار سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایک مربوط مہم کے تحت ایک ہی نوعیت کا مواد بیک وقت جاری کیا گیا۔ شرجیل میمن کے مطابق ایک جیسے الفاظ اور تقریباً ایک ہی وقت میں کی جانے والی پوسٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مہم منظم انداز میں چلائی گئی۔
انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ مہم چلانے والے افراد جعلی شناخت، بوٹ نیٹ ورک یا پراکسی اکاؤنٹس استعمال کر رہے ہیں، جبکہ اس کے پیچھے بعض سیاسی عناصر کے ملوث ہونے کا بھی امکان ہے۔
شرجیل میمن نے این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ اکاؤنٹس کا فرانزک اور تکنیکی تجزیہ کرکے ان کے پیچھے موجود افراد کی شناخت کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
میر رضا قتل کیس میں نیا انکشاف
دوسری جانب میر رضا قتل کیس میں بھی ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق میر رضا کے جسم کو تیزاب سے جلانے کی کوشش کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا کی شرٹ پر بھی تیزاب کے اثرات پائے گئے ہیں، جس سے کیس کی تفتیش میں ایک نیا پہلو سامنے آیا ہے۔ تفتیشی حکام کی جانب سے ان شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کے اصل محرکات اور ذمہ داروں تک پہنچا جا سکے۔


