• Home  
  • ایرانی خطرہ:ٹرمپ کی ترکیہ سے خفیہ پرواز، واشنگٹن پوسٹ کا انکشاف
- دنیا

ایرانی خطرہ:ٹرمپ کی ترکیہ سے خفیہ پرواز، واشنگٹن پوسٹ کا انکشاف

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے گزشتہ ماہ ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد بظاہر ایک پرانے ایئر فورس ون سے روانگی اختیار کی، تاہم حقیقت میں انہیں ایک چھوٹے امریکی فوجی طیارے C-32A کے ذریعے خفیہ طور پر برطانیہ منتقل کیا گیا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ (The Washington Post) […]

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے گزشتہ ماہ ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد بظاہر ایک پرانے ایئر فورس ون سے روانگی اختیار کی، تاہم حقیقت میں انہیں ایک چھوٹے امریکی فوجی طیارے C-32A کے ذریعے خفیہ طور پر برطانیہ منتقل کیا گیا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ (The Washington Post) کے مطابق یہ غیر معمولی انتظام ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کو لاحق مبینہ قابلِ اعتبار سکیورٹی خطرے کے پیش نظر کیا گیا تھا۔ اخبار نے معاملے سے واقف ایک امریکی عہدیدار اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ تفصیلات سامنے لائی ہیں۔

صحافیوں کو بھی اصل منصوبے سے بے خبر رکھا گیا

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انقرہ کے ہوائی اڈے پر کیمروں کے سامنے پرانے ہلکے نیلے رنگ کے ایئر فورس ون میں سوار ہوئے، جس سے وہاں موجود صحافیوں اور دیگر افراد کو یہی تاثر ملا کہ صدر اسی طیارے سے برطانیہ روانہ ہوئے ہیں۔

تاہم طیارے میں سوار ہونے کے بعد انہیں مبینہ طور پر ہوائی اڈے کی ایک کیٹرنگ گاڑی کے ذریعے ایک دوسرے مقام تک پہنچایا گیا، جہاں سے انہوں نے امریکی فضائیہ کے نسبتاً چھوٹے طیارے C-32A میں خفیہ پرواز کی۔

اس دوران بعض صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے کچھ اہلکاروں کو بھی یہی معلوم تھا کہ صدر پرانے ایئر فورس ون میں موجود ہیں۔

ایران سے بڑھتی کشیدگی میں سکیورٹی خدشات

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ترکی کی جغرافیائی قربت بھی اس صورتحال کو مزید حساس بناتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صدر کو لاحق خطرے کے پیش نظر ایک ایسا منصوبہ اختیار کیا گیا جس میں اصل طیارے اور صدر کی حقیقی نقل و حرکت کو چھپانے کے لیے متبادل طیارے کا استعمال کیا گیا۔

اس نوعیت کی حکمت عملی ماضی میں بھی اختیار کی جا چکی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے 2000 کی ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت صدر بل کلنٹن کے پاکستان کے دورے کے دوران بھی ایک متبادل سرکاری طیارے کو بطور فریب استعمال کیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے خود بھی طیارے کی تبدیلی کا ذکر کیا تھا

انقرہ سے روانگی سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بتایا تھا کہ وہ برطانیہ کے رائل ایئر فورس بیس ملڈن ہال جانے کے لیے پرانے ایئر فورس ون کا استعمال کریں گے۔

ان کے مطابق اس کی ایک وجہ ’’پرانے وقتوں کی خاطر‘‘ اس طیارے میں سفر کرنا تھی۔ نئے طیارے کو بھی برطانیہ کے اسی اڈے پر پہنچنا تھا تاکہ وہاں تعینات امریکی فوجی اہلکار اسے دیکھ سکیں۔

تاہم اس اعلان نے صدر کی اصل نقل و حرکت کو ظاہر نہیں کیا۔

صحافیوں کو کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جن صحافیوں کو یہ یقین تھا کہ وہ صدر کے ساتھ پرانے ایئر فورس ون میں سفر کر رہے ہیں، انہیں دورانِ پرواز طیارے کی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

بعد میں صحافیوں نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ انہیں ایسا کرنے کا حکم کیوں دیا گیا تھا۔ صدر نے جواب دیا کہ ممکنہ طور پر وہ ایک ’’خطرناک پرواز‘‘ پر تھے۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے یہ بھی کہا کہ اگر وہ خود اس سفر پر جا رہے ہیں تو صحافی بھی ان کے ساتھ جائیں گے۔

C-32A پہلے برطانیہ پہنچا

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ کو لے جانے والا C-32A برطانیہ میں تقریباً رات 10 بج کر 20 منٹ پر پہنچ گیا، جبکہ پرانا ایئر فورس ون اور میڈیا کا طیارہ اس کے چند منٹ بعد وہاں پہنچا۔

تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ برطانیہ پہنچنے کے بعد ٹرمپ کو C-32A سے دوبارہ پرانے ایئر فورس ون میں کس مقام پر اور کس طریقے سے منتقل کیا گیا۔

8 جولائی کو رائٹرز کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں ٹرمپ کو انقرہ میں پرانے ایئر فورس ون کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ ان کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں کے گروپ کے مطابق صدر مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 56 منٹ پر طیارے سے اترے۔

صحافیوں کے مطابق ٹرمپ نے انہیں دیکھ کر امن کا نشان بنایا، تاہم ان کے پاس رک کر گفتگو نہیں کی۔ بعد ازاں انہوں نے امریکی فوجی اہلکاروں سے ملاقات کی اور مصافحہ کیا، جس کے بعد نئے قطری طیارے کی جانب روانہ ہوئے۔

وائٹ ہاؤس نے سکیورٹی خطرات کا حوالہ دیا

خفیہ پرواز سے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس نے مواصلات کے ڈائریکٹر سٹیو چیونگ (Steven Cheung) کا بیان جاری کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ قطر کی جانب سے امریکہ کو دیے گئے طیارے میں صدر اور ان کے عملے کے تحفظ کے لیے اعلیٰ سطح کے سکیورٹی پروٹوکول موجود ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر کے اپنے الفاظ میں امریکہ کے متعدد دشمن ہیں جو انہیں نشانہ بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس لیے انتظامیہ صدر کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے دستیاب تمام وسائل استعمال کرتی ہے۔

پینٹاگون نے اس معاملے پر فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

قطر کا تحفہ بننے والا نیا ایئر فورس ون

ٹرمپ نے نیٹو اجلاس کے لیے قطر کی جانب سے امریکہ کو دیے گئے نئے بوئنگ 747 طیارے میں سفر کیا تھا۔ یہ اس طیارے کا پہلا بین الاقوامی سفر تھا۔

قطر نے یہ طیارہ گزشتہ سال امریکہ کو تحفے میں دیا تھا، جبکہ امریکی دفاعی کمپنی L3Harris Technologies نے اسے صدارتی استعمال کے لیے تیار کرنے کے لیے اس میں مختلف تبدیلیاں کیں۔

نئے طیارے کا استعمال عبوری طور پر کیا جانا تھا کیونکہ بوئنگ کے اگلی نسل کے ایئر فورس ون طیاروں کی تیاری اور فراہمی میں طویل تاخیر کا سامنا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے منتخب کیے گئے نئے طیارے کے سرخ، سفید، گہرے نیلے اور سنہری رنگوں کے ڈیزائن نے بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔

تاہم ترکی سے ٹرمپ کی مبینہ خفیہ منتقلی نے نئے صدارتی طیارے کی سکیورٹی، صدر کے سفری انتظامات اور ایران سے لاحق خطرات کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!