امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ نیویارک میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو مکمل شکست دینے کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے اور امریکی کارروائی کے نتیجے میں اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کو مکمل شکست دینے کے بعد آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
ٹرمپ کے بیان اور ایران کے سخت ردعمل نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی اور تیل کی منڈیوں پر بھی نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز strait of Hormoz عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ تصور کی جاتی ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، جس کے باعث خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اس آبی گزرگاہ کی صورتحال نے عالمی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
ایران امریکہ جنگ Iran US warکے بعد آبنائے ہرمز میں طویل عرصے تک آمدورفت متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ اس راستے کی بندش سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایران کی ردعمل
دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کے بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایران کی تھی، ایران کی ہے اور ایران ہی کی رہے گی۔
مذید خبریں
ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہازوں پر پابندی اور 20 فیصد فیس کی تجویز – urdureport.com
آبنائے ہرمز میں پھر کشیدگی ، امریکی کارروائی کے بعد ایران کے جوابی حملے – urdureport.com
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر کسی سوشل میڈیا بیان یا طیارہ بردار بحری جہاز کے ذریعے قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران نہ دھمکیوں سے خوفزدہ ہے اور نہ ہی طاقت کے مظاہرے سے دباؤ میں آئے گا۔
کاظم غریب آبادی نے امریکی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ کو پہلے ہی ایک بڑی سٹریٹیجک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ ایران کے اختیار میں ہے۔


