اردو رپورٹ ڈیسک
یمنی حوثی باغیوں نے باب المندب پر قبضہ کرلیا ہے، خبر رساں ایجنسی کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے باب المندب کے مرکزی جزیرے بریم سے انخلا کیا، جس کے بعد حوثی فورسز نے جزیرے کا کنٹرول سنبھال لیا۔
یہ پیش رفت یمن کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی مسلسل پیش قدمی اور اس خدشے کے درمیان سامنے آئی ہے کہ جاری تنازع وسیع علاقائی بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
حوثیوں کا جزیرہ بریم اور ذباب بندرگاہ پر قبضہ
خبر رساں ایجنسی کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے باب المندب میں واقع جزیرہ بریم خالی کردیا، جس کے بعد حوثیوں نے جزیرے پر قبضہ کرلیا۔
حوثیوں نے باب المندب کی اہم بندرگاہوں میں شمار ہونے والی ذباب بندرگاہ پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی پیش قدمی بدستور جاری ہے۔
یمنی ایلچی کا علاقائی اثرات سے متعلق انتباہ
یمن کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یمنی ایلچی نے خبردار کیا کہ یمن میں جاری لڑائی سے نہ صرف ملک کے اندر حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں بلکہ سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے اہم اور تزویراتی علاقوں میں لڑائی اور عسکری پیش قدمی جاری ہے۔
حوثیوں کی المخا بندرگاہ کی جانب پیش قدمی
ایرانی میڈیا کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے یمن کے مغربی صوبے تعز میں اہم علاقوں کے علاوہ الخالد اور جبل النصر کے فوجی اڈوں پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں واقع المخا بندرگاہ کے داخلی حصوں تک پہنچ گئی ہے۔
ایرانی میڈیا نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے المخا ایئرپورٹ بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جبکہ مزاحمت کرنے والے عناصر کی جانب سے بڑی تعداد میں ہتھیار ڈالنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
باب المندب عالمی تجارت کے لیے اہم بحری راستہ
باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس بحری راستے سے تیل، گیس اور غذائی اجناس سمیت عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔
یمن کے ساحلی علاقوں کی جانب حوثیوں کی پیش قدمی، سعودی عرب پر مسلسل حملوں اور جوابی فضائی کارروائیوں کے باعث خدشات بڑھ گئے ہیں کہ تنازع ایک بار پھر وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں اہم بحری راستے شدید کشیدگی کی زد میں ہیں۔


