اتوار, 27 ستمبر 2026
  • Home  
  • سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کر لی
- پاکستان

سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کر لی

سپریم کورٹ نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کرتے ہوئے دونوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

اردو رپورٹ ڈیسک

سپریم کورٹ نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق کیس میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کرتے ہوئے دونوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت کیس کے حتمی فیصلے تک ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں پر عمل درآمد روکنے کا بھی حکم دیا ہے۔

سزائیں معطل، دونوں کو ضمانت پر رہائی

جمعرات کو جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے سزاؤں کی معطلی کے لیے دائر اپیلوں پر سماعت کی۔

عدالت نے دونوں ملزمان کو 2، 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی ریمارکس

سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکیل فیصل صدیقی سے مخاطب ہوتے ہوئے ریمارکس دیے کہ دونوں وکیل ہیں اور عدالت ان کی عزت رکھ رہی ہے، انہیں بھی عدالت کے تقدس کا خیال رکھنے کا کہا جائے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ایک وکیل اور ایک عام آدمی کے رویے میں واضح فرق ہوتا ہے۔

سیشن عدالت کی سزا

رواں سال 24 جنوری کو اسلام آباد کی سیشن عدالت نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کے تحت مختلف الزامات میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

سزا میں سائبر دہشت گردی کے تحت 10 سال، جرم کی ترویج کے تحت 5 سال اور بے بنیاد معلومات پھیلانے کے تحت 2 سال قید شامل تھی۔

مقدمہ کب درج ہوا؟

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمہ 12 اگست 2025 کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی مدعیت میں ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان پر ریاست مخالف اور کالعدم تنظیموں کے بیانیے کی مبینہ تشہیر کرنے اور خیبر پختونخوا و بلوچستان کے حوالے سے سیکیورٹی فورسز پر بے بنیاد اور متنازع الزامات عائد کرنے کا الزام تھا۔

گرفتاری اور ہائی کورٹ سے رجوع

دونوں کو ابتدائی طور پر 23 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج اور ہائی کورٹ بار کے صدر سے مبینہ بدتمیزی کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے ایک روز بعد انہیں سوشل میڈیا کیس میں سزائیں سنا دی گئی تھیں۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے فروری میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں سزائیں معطل کرنے کے لیے اپیل دائر کی تھی، تاہم ہائی کورٹ کی جانب سے استدعا مسترد ہونے کے بعد دونوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد دونوں کو عبوری طور پر رہا کرنے اور ان کی سزاؤں پر عمل درآمد معطل رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!