اردو رپورٹ ڈیسک
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اُجین میں شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کی توسیع کے منصوبے کے تحت ہٹانے کے معاملے پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اُجین میونسپل کارپوریشن کے مطابق یہ منصوبہ شہر میں سڑکوں اور بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
منصوبے کے تحت متعلقہ سڑک کو اُجین ترقیاتی منصوبہ 2035 کے تحت 15 میٹر تک چوڑا کیا جانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام 2028 میں ہونے والے سمبھستھ مذہبی اجتماع کی تیاریوں کا حصہ ہے، جس میں بڑی تعداد میں یاتریوں کی اُجین آمد متوقع ہے۔
مسجد کے متاثر ہونے والے حصے
مسجد کی جانب سے دائر درخواست کے مطابق مجوزہ کارروائی سے نماز گاہ کا ایک حصہ، 120 فٹ بلند مینار اور مزار چوک شاہی کا علاقہ متاثر ہوگا۔ قانونی کارروائی میں مسجد کو وقف جائیداد قرار دیا گیا ہے۔
مسلم شہریوں اور مسجد کے نمائندوں نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سڑک کی توسیع مذہبی عمارت کو متاثر کیے بغیر کی جائے۔ سیکڑوں افراد مسجد کے اطراف جمع ہوئے جبکہ بعض افراد نے مجوزہ کارروائی روکنے کے لیے رات بھی وہیں گزاری۔
احتجاج اور پولیس کی تعیناتی
26 سے 28 ستمبر 2026 کے دوران تنازع شدت اختیار کرگیا۔ بڑی تعداد میں مسلمان مسجد کے اندر اور اطراف جمع ہوئے جبکہ انتظامیہ مجوزہ کارروائی کی تیاری کر رہی تھی۔
28 ستمبر کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، پتھراؤ کیا گیا اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔ علاقے میں بھاری نفری تعینات کردی گئی۔
اس سے قبل پولیس حکام نے کہا تھا کہ انتظامیہ فوری مسماری کے بجائے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اُجین کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پردیپ شرما نے کہا تھا کہ حکام مسجد کے نمائندوں کو کارروائی میں تعاون پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکومت سڑک کی توسیع کیوں چاہتی ہے؟
مدھیہ پردیش حکومت اور اُجین میونسپل کارپوریشن کے مطابق مسجد سے متعلق کارروائی وسیع تر سڑک اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کا حصہ ہے، جو سمبھستھ 2028 کی تیاریوں کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
متنازع سڑک مہاکالیشور مندر اور دریائے شپرا کے قریب واقع ہے۔ حکام کے مطابق مذہبی اجتماع کے دوران اس علاقے میں پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 9 ستمبر کے اپنے حکم میں سمبھستھ کے دوران کروڑوں یاتریوں کی متوقع آمد اور ٹریفک کے انتظام، عوامی سہولیات اور سلامتی کی ضرورت کا ذکر کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ میونسپل حکام نے مطلوبہ قانونی طریقہ کار پر عمل کیا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سڑک کی توسیع کے منصوبے سے دیگر مذہبی مقامات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق اسی سڑک پر 10 مندروں اور ایک مسجد کے کچھ حصے پہلے ہی ہٹائے جاچکے ہیں جبکہ اُجین میں تقریباً 80 مذہبی مقامات سے متعلق کارروائی کی گئی ہے۔
شاہی مسجد کی تاریخ کا دعویٰ
مقامی مسلم نمائندے شاہی مسجد کو صدیوں پرانی مسجد قرار دیتے ہیں۔ مسجد کے امام محمد ابراہیم کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد 1390 میں تعمیر ہوئی تھی، جس کے مطابق 2026 میں اس کی عمر تقریباً 636 سال بنتی ہے۔
تاہم 1390 کی تاریخ کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ آثارِ قدیمہ کا ریکارڈ قرار نہیں دیا گیا۔ موجودہ تنازع سے متعلق دستیاب رپورٹس میں یہ تاریخ بنیادی طور پر مسجد کے امام اور مقامی مسلم نمائندوں سے منسوب کی گئی ہے۔
مسجد کے منتظمین بھی اسے ایک قدیم مذہبی جائیداد قرار دیتے ہیں جو نسلوں سے موجود ہے۔ قانونی کارروائی میں اسے شاہی مسجد وقف پنچایت موچیاں کے زیر انتظام وقف جائیداد بتایا گیا ہے۔
تاریخی ریکارڈ میں اہم اختلاف
اُجین کی ایک اور شاہی مسجد سے متعلق تاریخی ریکارڈ بھی موجود ہے، جسے موجودہ تنازع کی مسجد سے بلا ثبوت ایک ہی عمارت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس میں دستیاب محکمہ آثارِ قدیمہ سے متعلق ایک تاریخی اشاعت میں مہاکالیشور مندر کے قریب واقع ایک شاہی مسجد کا ذکر ہے۔ اس کے مطابق فارسی کتبے میں مسجد کی تعمیر مغل بادشاہ جہانگیر کے دور میں شروع ہونے اور شاہ جہاں کے دور میں ہجری 1041، یعنی 1632 عیسوی میں مکمل ہونے کا ذکر ملتا ہے۔
اشاعت میں مسجد سے متصل محل اور قبرستان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ موجودہ تنازع کی مسجد کے حوالے سے مقامی نمائندوں کی جانب سے 1390 کی تاریخ بیان کی جاتی ہے، جبکہ اس تاریخی ریکارڈ میں 1632 کا سال درج ہے۔ اس لیے مزید آثارِ قدیمہ یا دستاویزی شواہد کے بغیر دونوں حوالوں کو ایک ہی عمارت سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ
مسجد کے منتظمین کی جانب سے اُجین میونسپل کارپوریشن کے نوٹس کو چیلنج کرنے کے بعد معاملہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ پہنچا۔
9 ستمبر 2026 کو جسٹس سندیپ این بھٹ نے مجوزہ کارروائی کے خلاف دائر دو درخواستیں مسترد کردیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ میونسپل حکام نے قانونی طریقہ کار پر عمل کیا اور متاثرہ فریقین کو اعتراضات اٹھانے کا موقع بھی دیا۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کارروائی سے نماز گاہ کا ایک حصہ، مینار اور مزار چوک شاہی متاثر ہوں گے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکلز 14، 25 اور 26 کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 300 اے کے تحت جائیداد کے حقوق سے متعلق اعتراضات بھی اٹھائے تھے۔
عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کردیا کہ مسجد کو مذہبی مقام ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے اور سڑک کی توسیع کے منصوبے کے تحت دیگر مذہبی مقامات کے خلاف کی گئی کارروائی کا حوالہ دیا۔
تنازع بدستور جاری
مسجد کے نمائندوں نے اس کے بعد مزید قانونی ریلیف کے لیے کوششیں جاری رکھیں اور معاملے کی مزید سماعت بھی مقرر ہوئی۔
اُجین کی مسلم برادری کے لیے یہ معاملہ ایک ایسے عبادت گاہ کے تحفظ سے متعلق ہے جسے مقامی نمائندے صدیوں پرانا قرار دیتے ہیں، جبکہ حکام اسے سمبھستھ 2028 کے لیے شہر میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے منصوبے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
تنازع کا بنیادی نکتہ سڑک کی توسیع اور بڑے مذہبی اجتماع کے دوران ٹریفک و عوامی سہولیات کے انتظام کی حکومتی ضرورت اور مسجد کے تحفظ کے مطالبے کے درمیان اختلاف ہے۔
28 ستمبر 2026 تک مسجد کے اطراف احتجاج جاری ہے جبکہ مجوزہ کارروائی کو چیلنج کرنے یا اس میں تبدیلی کے لیے قانونی کوششیں بھی جاری ہیں۔

