اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • کے پی کے میں کب کب گورنر راج لگا،پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ
- خاص رپورٹ

کے پی کے میں کب کب گورنر راج لگا،پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مختلف ادوار میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس کی اہم مثالیں اور متعلقہ ادوار سامنے آتے ہیں۔

اردو رپورٹ ڈیسک

پاکستان میں گورنر راج مختلف سیاسی اور آئینی بحرانوں کے دوران صوبوں میں نافذ ہوتا رہا ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق پنجاب میں تین، سندھ میں تین، خیبرپختونخوا میں تین جبکہ بلوچستان میں بھی تین نمایاں مواقع پر گورنر راج نافذ کیا گیا۔

خیبرپختونخوا میں تین مرتبہ گورنر راج

خیبرپختونخوا میں، جسے ماضی میں شمال مغربی سرحدی صوبہ کہا جاتا تھا، تین مرتبہ گورنر راج نافذ کیا گیا۔

پہلی مرتبہ 16 فروری 1975 سے 3 مئی 1975 تک، دوسری مرتبہ 25 فروری 1994 سے 24 اپریل 1994 تک اور تیسری مرتبہ 12 اکتوبر 1999 سے 30 نومبر 2002 تک گورنر راج نافذ رہا۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج تین مختلف ادوار میں نافذ کیا گیا۔ ہر مرتبہ اس کے سیاسی اور انتظامی حالات مختلف تھے:

1۔ 1975 — ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں

مدت: 16 فروری 1975 سے 3 مئی 1975

1975 میں اس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت صوبے میں نیشنل عوامی پارٹی (NAP) اور جمعیت علمائے اسلام (JUI) کی حکومت تھی، جبکہ نصراللہ خان خٹک وزیراعلیٰ تھے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں ہوا جب وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان شدید سیاسی کشیدگی موجود تھی۔ بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت کی برطرفی کے بعد سرحدی صوبے کی حکومت نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا، جس کے نتیجے میں صوبے میں گورنر راج نافذ ہوا۔

2۔ 1994 — بے نظیر بھٹو کے دور میں

مدت: 25 فروری 1994 سے 24 اپریل 1994

1994 میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت کے دور میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔

اس وقت صوبے میں سیاسی بحران اور حکومت کے حوالے سے شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ صوبائی حکومت کے معاملات میں مرکز اور صوبائی قیادت کے درمیان کشیدگی کے بعد گورنر راج نافذ کیا گیا۔

یہ گورنر راج تقریباً دو ماہ جاری رہا، جس کے بعد صوبے میں دوبارہ منتخب حکومت کا نظام بحال ہوگیا۔

3۔ 1999 — پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد

مدت: 12 اکتوبر 1999 سے 30 نومبر 2002

12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو ملک میں آئینی و سیاسی نظام میں بڑی تبدیلی آئی۔

اس کے بعد خیبرپختونخوا سمیت صوبوں میں منتخب حکومتوں کا نظام ختم ہوگیا اور صوبائی انتظام گورنروں کے ذریعے چلایا گیا۔

خیبرپختونخوا میں یہ انتظام 30 نومبر 2002 تک جاری رہا، جس کے بعد عام انتخابات کے نتیجے میں صوبائی سیاسی نظام دوبارہ قائم ہوا۔

خلاصہ

سالدوربنیادی پس منظر
1975ذوالفقار علی بھٹووفاق اور صوبائی حکومت میں شدید سیاسی کشیدگی، صوبائی حکومت کا استعفیٰ
1994بے نظیر بھٹوصوبائی سیاسی بحران اور مرکز و صوبے میں کشیدگی
1999پرویز مشرففوجی اقتدار سنبھالنے کے بعد صوبائی منتخب حکومتوں کا خاتمہ

اہم فرق: 1975 اور 1994 کے واقعات مخصوص سیاسی بحرانوں سے متعلق تھے، جبکہ 1999 کا معاملہ ملک گیر فوجی اقتدار سنبھالنے کے بعد صوبائی نظام میں تبدیلی سے متعلق تھا۔

1999 کے بعد کا دور

12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سمیت مختلف صوبوں کے سیاسی و انتظامی نظام میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔

خیبرپختونخوا میں اس عرصے کے دوران گورنر راج 30 نومبر 2002 تک جاری رہا، جبکہ بلوچستان میں یہ انتظام یکم دسمبر 2002 تک برقرار رہا۔

پنجاب میں گورنر راج

پنجاب میں پہلی مرتبہ 25 جنوری 1949 کو گورنر راج نافذ کیا گیا، جو 5 اپریل 1951 تک جاری رہا۔ اس وقت افتخار حسین خان ممدوٹ وزیراعلیٰ تھے جبکہ سر فرانسس موڈی گورنر تھے۔ بعد ازاں عبد الرب نشتر نے بھی گورنر کی حیثیت سے صوبائی معاملات سنبھالے۔

پنجاب میں دوسری مرتبہ 12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد گورنر راج نافذ ہوا۔ یہ انتظام 23 نومبر 2002 تک جاری رہا۔ اس دوران ذوالفقار کھوسہ، لیفٹیننٹ جنرل صفدر حسین اور لیفٹیننٹ جنرل خالد مقبول نے بطور گورنر صوبائی معاملات دیکھے۔

پنجاب میں تیسری مرتبہ 25 فروری 2009 کو گورنر راج نافذ کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے مشورے پر یہ اقدام کیا اور گورنر سلمان تاثیر کو صوبائی انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری دی گئی۔ اس وقت سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نواز شریف اور شہباز شریف کی نااہلی کے باعث صوبے میں آئینی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔

یہ گورنر راج تقریباً ایک ماہ جاری رہا اور 30 مارچ 2009 کو ختم کردیا گیا۔ اس دوران پنجاب اسمبلی کو معطل نہیں کیا گیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ شہباز شریف اور صوبائی کابینہ کے ارکان اپنے عہدوں پر برقرار نہیں رہے۔

سندھ میں گورنر راج

تاریخی ریکارڈ کے مطابق سندھ میں تین نمایاں مواقع پر گورنر راج نافذ کیا گیا۔

پہلا دور 1951 سے 1953 تک میاں امین الدین کے گورنر رہنے کے زمانے میں تھا۔ دوسرا 1988 میں لیفٹیننٹ جنرل رحیم الدین خان کے دور میں جبکہ تیسرا 1998 میں لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر کے دور میں آیا۔ ان ادوار میں صوبائی وزرائے اعلیٰ کو عہدوں سے ہٹایا گیا اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کی گئیں۔

1998 میں سندھ میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے تھے۔ حکیم سعید کے قتل کے بعد سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔

بلوچستان میں گورنر راج

بلوچستان میں بھی تین نمایاں مواقع پر گورنر راج نافذ کیا گیا۔

پہلی مرتبہ 13 فروری 1973 سے 27 اپریل 1973 تک صوبے میں گورنر راج رہا۔ اس وقت نواب اکبر خان بگٹی کو گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ (

دوسری مرتبہ 31 دسمبر 1975 سے 6 دسمبر 1976 تک بلوچستان میں گورنر راج نافذ رہا۔

تیسری مرتبہ 12 اکتوبر 1999 سے یکم دسمبر 2002 تک صوبے میں گورنر راج نافذ رہا۔

2013 میں بلوچستان میں دوبارہ اقدام

جنوری 2013 میں بلوچستان میں شدید بدامنی اور کوئٹہ میں بم دھماکوں کے بعد صوبائی حکومت برطرف کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ 13 جنوری 2013 کو وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کیا۔ اس وقت نواب اسلم رئیسانی کی حکومت ختم کی گئی اور گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی کو صوبے کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری دی گئی۔

اس اقدام کی پارلیمانی منظوری کے لیے مشترکہ اجلاس بھی بلایا گیا تھا، کیونکہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صدر کے اقدام کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری تھا۔

گورنر راج کا آئینی طریقہ کار

موجودہ آئینی نظام میں گورنر راج کی بنیادی آئینی بنیاد آرٹیکل 234 ہے۔ اس کے تحت اگر صدر مملکت گورنر کی رپورٹ کی بنیاد پر اس بات سے مطمئن ہوں کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی تو صدر اعلان جاری کرسکتے ہیں۔

آرٹیکل 234 کے تحت صدر صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو اپنے behalf پر یہ اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں موجودہ بحث

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر حالیہ سیاسی بحث کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ 23 ستمبر 2026 کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا ارادہ نہیں۔

اس تاریخی پس منظر میں خیبرپختونخوا میں کسی بھی آئینی اقدام کے لیے متعلقہ آئینی شق، قانونی طریقہ کار اور پارلیمانی تقاضے اہم ہوں گے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!