مکہ مکرمہ: سعودی حکام نے مسجد الحرام میں مبینہ خودکش بمبار کی موجودگی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں کوئی خودکش حملہ یا بم دھماکا نہیں ہوا۔
سعودی سیکیورٹی حکام کے مطابق مکہ مکرمہ میں ایک شخص کو راہگیروں کو ہراساں کرنے اور ان میں خوف و ہراس پھیلانے پر گرفتار کیا گیا۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو حراست میں لے لیا۔
🔴 BREAKING | Saudi Arabia:
Saudi authorities deny reports of a suicide bomber at the Grand Mosque in Makkah.
Security forces arrested a man for harassing passersby and causing panic. Authorities said there was no suicide bombing. pic.twitter.com/7FXBCDQ5tn
— Makkah Updates🕋 (@MakkahUpdate) October 2, 2026
افواہوں میں حقیقت نہیں
حکام نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر اس واقعے کو خودکش بمبار یا خودکش حملے سے جوڑنے والی اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں۔ واقعے پر فوری قابو پا لیا گیا اور گرفتار شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب سوشل میڈیا پر ایسی اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ مسجد الحرام کے قریب ایک مبینہ خودکش بمبار کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان دعوؤں کے باعث زائرین اور عام لوگوں میں تشویش پیدا ہوئی۔
راہگیروں کو ہراساں کرنا
سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ اصل واقعہ راہگیروں کو ہراساں کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے والے شخص کی گرفتاری سے متعلق تھا، اسے خودکش حملے سے جوڑنا درست نہیں۔
سعودی حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے معلومات کے لیے سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔ سعودی وزارت داخلہ بھی ماضی میں عوام کو غیر مصدقہ ویڈیوز اور افواہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کر چکی ہے۔


