وائٹ ہاؤس اس وقت ایران حملوں کو ویڈیو گیم مناظر کے ساتھ ملا کر شئیر کرنے پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔
وائٹ ہاوس ترجمان کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو شیئر کی گئی جس میں ویڈیو گیم Call of Dutyکے مناظر کو ایران میں امریکی میزائل حملوں کی حقیقی ویڈیوز کے ساتھ ملا کر پیش کیا گیا۔
تقریباً ایک منٹ دورانیے کی اس ویڈیو کو ’’Courtesy of the Red, White & Blue‘‘ کے عنوان کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پوسٹ کیا گیا۔
ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی اور اسے اب تک 3 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔
Courtesy of the Red, White & Blue. pic.twitter.com/kTO0DZ56IJ
— The White House (@WhiteHouse) March 4, 2026
ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی حلقوں کی جانب سے ملا جلا مگر زیادہ تر تنقیدی ردعمل سامنے آیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگ جیسے سنجیدہ معاملے کو ویڈیو گیم کے انداز میں پیش کرنا غیر مناسب اور غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔
ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ حکومت جنگ کو ویڈیو گیم کی طرح دکھا رہی ہے، جو نہ صرف نامناسب بلکہ بچکانہ طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے۔
بعض صارفین نے اس اقدام کو جنگی المیوں کی حساسیت کے خلاف قرار دیا۔
ایک اور سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ اس ’ویڈیو گیم‘ میں وہ ایرانی بچیاں شامل نہیں جو حملوں میں جان سے گئیں، نہ ہی وہ امریکی فوجی دکھائے گئے ہیں جو اس جنگ میں ہلاک ہوئے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اس رائ ‘یل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اب تک کم از کم 1230 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں 175 طالبات اور اسکول کا عملہ بھی شامل ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہفتے کے روز جنوبی ایران کے شہر Minab میں ایک اسکول پر میزائل حملے میں متعدد طالبات اور اسکول عملہ جاں بحق ہو گیا تھا، جس کے بعد اس واقعے نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔
یہ بھی پڑھئیے


