امریکی حملون کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران میں پٹرول پمپس پر ایندھن کی کمی واقع ہو نا شروع ہو گئی ہے جس سے عوام کو مشکال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تہران کے گورنر محمد صادق معتمیدیان کا کہنا ہے کہ ایندھن کی تقسیم کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچنا۔
جس کے بعد پیٹرول پمپس پر ذاتی کارڈ کے ساتھ ایندھن بھرنے کا کوٹہ عارضی طور پر 30 لیٹر سے کم کر کے 20 لیٹر کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے تہران میں میٹرو سروس مفت کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق، میٹرو 24 گھنٹے کام کرے گی۔
گورنر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایندھن کے ذخائر کافی ہیں جبکہ ایندھن کی فراہمی کے نیٹ ورک کے تباہ شدہ حصوں کی مرمت جاری ہے۔
گورنر نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ضرورت پڑنے پر ہی پیٹرول پمس کا رخ کریں۔
آئل ڈپو اور ریفائنری میں لگنے والی آگ کی آلودگی سے بچنے کے لیے انھوں نے شہریوں کو ماسک پہننے کا مشورہ دیا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ پیٹرول کی اس کمی سے نمٹنے کے لیے تہران اور البرز صوبوں میں سی این جی اسٹیشنز 24 گھنٹے کھلے رہیں گے۔
یہ بھی پڑھئِے


