پاکستان حکومت ایک مرتبہ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا جائزہ لے رہی ہے اور ایران جنگ کی موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں پٹرولیم مصنوعات مین بڑا اضافہ متوقع ہے۔
پاکستان میں ہر ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں مِیں اضافے کا جائزہ لیا جائے گا اور ایران جنگ یا آبنائے ہرمز کے خاتمے تک یہ صورتحال برقرار رہے کہ۔
خام تیل کی قیمت میں 20 فیصد سے زیادہ اضافے کے بعد پاکستان سمیت ایشیائی منڈیاں مندی کا شکار ہو گئی ہیں۔
پاکستان، جنوبی کوریا اور جاپان سمیت ایشیائی سٹاک مارکیٹس میں عالمی تیل کی قیمت میں اضافے کے شدید اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں لین دین کے آغاز پر قریب 10 ہزار پوائنٹس کی کمی کے بعد ٹریڈنگ عارضی طور پر معطل کی گئی تھی۔ ادھر ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کے انتخاب پر امریکی صدر ٹرمپ نے خود تبصرہ نہیں کیا ہے مگر فاکس نیوز کے مطابق وہ ’ناخوش ہیں‘۔
گزشتہ ہفتے تک خلیجی خطے میں واقع آبنائے ہرمز پر رکے ہوئے تیل اور گیس کے ٹینکروں کے معاملے پر عالمی منڈی نسبتاً مطمئن دکھائی دے رہی تھی۔
تاہم حالیہ دنوں میں خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور ایران سمیت خلیجی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز مارچ کے اختتام تک بند رہی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
تیل کی قیمت میں اس ممکنہ اضافے کے نتیجے میں پیٹرول مہنگا ہونے کا خدشہ ہے، جس کے اثرات جیٹ فیول اور کھاد کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
خلیجی ممالک سے آنے والی توانائی ایشیا میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے، اس لیے اس صورتحال کے اثرات ایشیائی معیشتوں پر زیادہ پڑنے کا امکان ہے۔
ادھر ابتدائی اثرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں ایشیا میں امریکی گیس کی طلب بڑھ گئی ہے جبکہ یورپ جانے والے بعض ٹینکروں نے اپنا رخ ایشیائی منڈیوں کی طرف موڑ لیا ہے۔
یہ بھی پرھئیے


