اس رائی’لی وزیر اعظم بن یام ین نیت ن یاہ و نے لائیو پریس کانفرنس میں ایران کے ساتھ جنگ میں اہداف، مقاصد اور حکمت عملی پر کھل کر گفتگو کی۔
ان کے بقول ان کا ملک اور امریکا مل کر پورے مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کا تحفظ کر رہے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس رائی لی وزیراعظم نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں زندہ ہوں۔
ان کاکہنا تھا کہ ہم نے امریکہ کو ایران جنگ میں نہیں گھسیٹا:
انہوں نے ایران جنگ میں اپنے کے تین اہداف ظاہر کیے ہیں: ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ، بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کا خاتمہ اور ایرانی عوام کے لیے ’آزادی حاصل کرنے کے لیے‘ حالات پیدا کرنا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہیں کہ وہ ایک اور ’جعلی خبر‘ کو بھی رد کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا اشارہ اس دعوے کی طرف تھا کہ انہوں نے امریکہ کو ایران کے ساتھ تصادم کے لیے گھسیٹا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کیا کوئی شخص صدر ٹرمپ کو بتا سکتا ہے کہ انھیں کیا کرنا ہے؟‘ان کے بقول ٹرمپ ’ہمیشہ وہی فیصلے کرتے ہیں جو اُن کے خیال میں امریکہ کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ہوں
انہوں نے نے دعویٰ کیا کہ 20 دن کی لڑائی کے بعد ہم جیت رہے ہیں اور ایران کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ تہران کی فوجی صلاحیت، خاص طور پر اس کے ایٹمی اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے میزائل اور ڈرون ہتھیاروں کے ذخائر کو بڑی حد تک تباہ کیا جا رہا ہے اور انھیں مکمل طور پر ختم کرکے دم لیا جائے۔
اس کے بعد انھوں نے اعلان کیا کہ اس جنگ میں ایران اب یورینیم افزودگی اور بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت سے محروم ہوچکا ہے۔
انہوں نے ایران کے اندر ممکنہ عوامی ردعمل کے بارے میں کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ آیا ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے یا نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران میں حکومت یا کسی بھی تبدیلی کے لیے صرف فضائی کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ زمینی سطح پر بھی اقدامات درکار ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ زمینی کارروائی کے کئی امکانات موجود ہیں لیکن اس حوالے سے وہ تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔
ان کے اس بیان کو ماہرین خطے میں ممکنہ طور پر کسی بڑی حکمت عملی یا آئندہ اقدامات کا اشارہ قرار دے رہے ہیں
یہ بھی پڑھئیں


