پنجاب حکومت کی کفایت شعاری مہم کے دوران ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے لیے نئی گاڑیاں خریدنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب عدلیہ کی جانب سے باقاعدہ ریکویزیشن پیش کی گئی، جسے حکومت نے منظور کر لیا۔
مریم نواز کی زیرِ قیادت صوبائی کابینہ نے عمومی طور پر تمام سرکاری محکموں کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
تاہم، اس پابندی میں دو اہم استثنیٰ رکھے گئے ہیں: ایک اعلیٰ عدلیہ، اور دوسرا قانون نافذ کرنے والے ادارے، جہاں ہنگامی آپریشنل ضروریات کے تحت نئی گاڑیاں خریدی جا سکتی ہیں۔
اس فیصلے کے بعد عوامی اور سیاسی حلقوں میں تنقید بھی دیکھنے میں آئی ہے۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ جب حکومت عوام پر معاشی بوجھ کم کرنے کے لیے کفایت شعاری کی بات کر رہی ہے تو ایسے میں مخصوص اداروں کے لیے مہنگی گاڑیوں کی خریداری دوہرا معیار ظاہر کرتی ہے۔
بعض تجزیہ کاروں نے اسے غیر مساوی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بچت مقصد ہے تو تمام اداروں پر یکساں پابندی ہونی چاہیے۔
دوسری جانب، صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے حکومتی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ کفایت شعاری مہم پوری شدت سے جاری ہے۔
ان کے مطابق وزراء کے پیٹرول اخراجات بند کیے جا چکے ہیں، سرکاری افسران کے لیے ایندھن میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جبکہ وزراء دو ماہ کی تنخواہیں بھی نہیں لے رہے۔ مزید یہ کہ وزیراعلیٰ خود بھی تنخواہ اور مراعات نہیں لے رہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دی گئی یہ چھوٹ صرف ان کی کارکردگی اور عوام کو انصاف و تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہے، جبکہ دیگر تمام محکموں پر کفایت شعاری پالیسی بدستور لاگو رہے گی۔
یہ بھی پڑھئِے


