امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مطالبات ماننے کے قریب ہے ۔ہم جزیرے خارگ پر قبضے کے لیے غور کر رہے ہیں۔
واضع رہے کہ خطے میں اس وقت ہزاروں امریکی میرینز موجود ہیں۔جبکہ خطے میں خصوصی دستے اور پیرا ٹروپرز بھی پہنچ رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی ممکنہ کاروائی
برطانوی نشریاتے ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایئر فورس ون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران یہ مواد حوالے کرنے کے لیے تیار ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کے پاس ’ملک ہی نہیں بچے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ جزیرہ خارگ پر زمینی کارروائی یا یورینیئم ضبط کرنے کے آپریشنز پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی حکام کی بریفنگز کہا گیا ہے کہ امریکی فوج زمینی کارروائی کے لیے تیار ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی بات کو زمینی حملے کی تیاری چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ان کے بقول ایران سرینڈر قبول نہیں کرے گا اس کے جوان امریکی فوجیوں کے ’انتظار میں ہیں۔
عالمی منڈی میں تیل کی برھتی قیمتیں
جبکہ دوسری جانب ایشیا کی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت 116 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کا تیل حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
امریکہ نے جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کے بعد وہاں تیل پر کنٹرول حاصل کیا تھا۔
ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ امریکہ یہ کام خلیج فارس میں واقع خارگ پر قبضے سے کر سکتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایران کی 90 فیصد تیل برآمدات لادی جاتی ہیں۔
اگرچہ خارگ پر قبضہ ممکن ہو سکتا ہے لیکن یہ امریکہ کے لیے وینزویلا جیسی کارروائی نہیں ہوگی۔
اس کے لیے بڑی تعداد میں افرادی قوت درکار ہوگی اور اس سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول بھی نہیں بدلے گا۔
یہ بھی پڑھئِے


