پی ایس ایل میں لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان میچ میں بال ٹیمپرنگ کا ایک بڑا تنازع سامنے آیا۔
مایہ ناز بیٹر فخر زمان پر گیند کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزام میںپی سی بی نے لیول تھری کا سنگین جرم قرار دیا ہے۔
قوانین کیا کہتے ہیں ؟
بورڈ کے مطابق یہ خلاف ورزی پی ایس ایل کے آرٹیکل 41.3 اور ضابطہ اخلاق 2.14 کے تحت آتی ہے۔ایسی صورتحال میں گیند کی حالت کو جان بوجھ کر تبدیل کرنا ممنوع ہے۔
اگر کو ئی کھلاڑی ایسا کر ءے گا تو اس پر سخت سزا دی جا سکتی ہے۔
فخر زمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا ہے۔ میچ ریفری روشن مہاناما کی سربراہی میں ہونے والی ابتدائی سماعت میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کی۔
پی سی بی کے مطابق اس معاملے کی مزید سماعت آئندہ 48 گھنٹوں میں ہوگی۔ اس سماعت اور موقف جاننے کے بعد حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔
دوسری جانب حسن علی کو لیول ون خلاف ورزی پر ان کی میچ فیس کا دس فیصد جرمانہ کیا گیا۔حسن علی نے بیٹر کو آؤٹ کرنے کے بعد اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا۔
بال ٹیمپرنگ کا واقعہ کیسے پیش آیا؟
یہ بال ٹیمپرنگ کا واقعہ قذافی اسٹیڈیم میں میچ کے فیصلہ کن مرحلے میں پیش آیا۔ کراچی کنگز کو آخری اوور میں 14 رنز درکار تھے۔ اوورز کے درمیان وقفے میں شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور فخر زمان ایک ساتھ موجود تھے۔
ویڈیو کے مطابق فخر زمان نے چند لمحوں کے لیے گیند اپنے پاس رکھی۔ اس کے فوراً بعد امپائر نے گیند تبدیل کر دی اور لاہور قلندرز پر پانچ رنز کی پنلٹی عائد کر دی۔ پانچ رنز کم کرنے سے ہدف کم ہو کر نو رنز رہ گیا۔
اس فیصلے کی وجہ سے کراچی کنگز نے تین گیندوں میں آسانی سے ہدف حاصل کر لیا۔ میچ کے بعد شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ انہیں اس واقعے کا علم نہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ویڈیو دیکھنے کے بعد ہی کوئی تبصرہ کریں گے۔
قوانین کے مطابق گیند کو کسی بھی طرح نقصان پہنچانا یا اس کی حالت بدلنا جرم ہے۔ کھلاڑی صرف کپڑوں سے گیند صاف کر سکتے ہیں اور کسی مصنوعی چیز کا استعمال منع ہے۔
سوشل میڈیا پر بحث
سوشل میڈیا پر اس واقعے پر شدید بحث جاری ہے۔ کچھ صارفین نے اسے کرکٹ کے اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت سزا کا مطالبہ کیا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ چند سیکنڈ میں گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں اور یہ معاملہ غلط فہمی بھی ہو سکتا ہے۔
اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو فخر زمان کو بھاری جرمانے یا طویل پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس سے فخر زمان کے کیریئر پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


