اردو رپورٹ ڈیسک
دنیا بھر میں اسمارٹ چشموں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، تاہم عوامی مقامات پر ان کے ذریعے خفیہ تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے خدشات نے پرائیویسی اور ہراسانی سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مصنوعی ذہانت سے لیس یہ چشمے صارفین کو ہاتھ استعمال کیے بغیر فون کالز کرنے، موسیقی سننے اور مصنوعی ذہانت سے رابطہ کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے تصاویر کھینچنے اور ویڈیوز ریکارڈ کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔
میٹا اور رے بین کے اسمارٹ چشمے مقبول
مارکیٹ میں میٹا اور رے بین کے اشتراک سے تیار کردہ اسمارٹ چشمے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ ان چشموں کے 70 لاکھ سے زائد جوڑے فروخت ہو چکے ہیں۔
تاہم، اس ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ اس کے ممکنہ غلط استعمال پر بھی تشویش سامنے آ رہی ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب کسی شخص کی اجازت یا علم کے بغیر اس کی ریکارڈنگ کی جائے۔
پرائیویسی خدشات، کاروباری اداروں کی پابندیاں
برطانیہ میں تقریباً 800 پب چلانے والے ایک ادارے نے اپنی تمام جگہوں کے اندر اسمارٹ چشموں کے ذریعے فلم بندی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ادارے کے مطابق یہ ٹیکنالوجی خفیہ نگرانی کی سہولت فراہم کر سکتی ہے، جو پرائیویسی کے عام طور پر تسلیم شدہ اصولوں کے منافی ہے۔
شمالی آئرلینڈ میں کامک کون تقریبات کے منتظمین نے بھی خفیہ ریکارڈنگ کے خدشات کے باعث اسمارٹ چشموں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خفیہ ریکارڈنگ اور ہراسانی کے خطرات
ماہرین کے مطابق عام کیمرے یا موبائل فون سے کسی کی ریکارڈنگ کی جائے تو متاثرہ شخص کو عموماً اس کا اندازہ ہو جاتا ہے، لیکن کیمرے سے لیس مصنوعی ذہانت والے چشموں کے ذریعے کسی کو علم ہوئے بغیر ریکارڈنگ ممکن ہے۔
اسمارٹ چشموں کے ذریعے کپڑوں کے اندر جھانکنے کی کوشش، ہراسانی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے ممکنہ استعمال پر بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔تصاویر اور ویڈیوز کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے کی صلاحیت نے پرائیویسی کے تحفظ اور مؤثر حفاظتی اقدامات کی ضرورت سے متعلق بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔
اسمارٹ چشموں کے مثبت استعمال کے امکانات
ان خدشات کے باوجود بعض مواد تخلیق کرنے والے افراد اس ٹیکنالوجی کو مثبت مقاصد کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔
بیلفاسٹ سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ مواد تخلیق کار پرائس ویلی اسمارٹ چشموں کے ذریعے سڑکوں پر لوگوں سے دوستانہ گفتگو کی ویڈیوز بناتے ہیں۔ ان کی ایک ویڈیو کو ٹک ٹاک پر 6 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسمارٹ چشمے بصارت سے محروم افراد کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
واضح ضوابط کی ضرورت
ماہرین کے مطابق اسمارٹ چشموں کا استعمال جیسے جیسے عام ہوتا جا رہا ہے، پرائیویسی، رضامندی اور قانونی تحفظ سے متعلق واضح ضوابط کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی سہولت اور ممکنہ فوائد فراہم کرتی ہے، تاہم خفیہ ریکارڈنگ اور غلط استعمال کے خدشات اس امر کو اجاگر کرتے ہیں کہ عوامی مقامات پر افراد کے تحفظ کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔


