پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے دعوے کرنے والوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ صرف مظفرآباد میں حکومت بنائیں گے، حالانکہ اسلام آباد میں قائم حکومت بھی خطرے میں ہے اور اس کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔
باغ میں انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے اور موجودہ حالات میں پاکستانی اور کشمیری عوام پریشان ہیں۔ ان کے مطابق کشمیر میں امن و امان کا قیام ضروری ہے تاکہ عام شہری اپنی معمول کی زندگی بحال کر سکیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے عوام کو موجودہ صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور احتجاج کرنے والوں سے عام شہریوں کا کوئی تعلق نہیں، وہ صرف امن اور معمول کی زندگی چاہتے ہیں۔
مسائل کا حل مذاکرات سے ممکن ہے
بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کے مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے اور فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی اختلاف کوئی نئی بات نہیں، تاہم ان کے بقول مسلم لیگ ن کا ایک مخصوص دھڑا وزیراعظم کو اتحادیوں کے خلاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصل معاملہ اسلام آباد اور لاہور کے درمیان جاری سیاسی کشمکش ہے اور یہ مسلم لیگ ن کے اپنے خاندان کا اندرونی مسئلہ ہے۔
اسلام آباد حکومت کے بارے میں بڑا دعویٰ
بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مظفرآباد میں حکومت بنانے والوں کی اسلام آباد حکومت بھی خطرے میں ہے اور اس کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ الٹی گنتی پیپلز پارٹی نے شروع نہیں کی بلکہ حکمران جماعت کے اپنے لوگوں نے شروع کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض بڑے سیاسی لوگ بھی حکومت کے گرنے کی باتیں کر رہے ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کے انتخابات کا ابھی نصف مرحلہ باقی ہے۔
آزاد کشمیر انتخابات پر سوالات
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے آزاد کشمیر میں انتخابات کے مرحلہ وار انعقاد پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کشمیر ایک اکائی ہے تو انتخابات بھی ایک ہی دن ہونے چاہییں تھے۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر انتخابات شفافیت یقینی بنانے کے لیے مختلف مراحل میں کرائے جا رہے ہیں تو اب تک کون سے مرحلے میں صاف، شفاف اور پرامن انتخابات ہوئے ہیں۔
بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر میں طویل عرصے تک انٹرنیٹ کی بندش کا بھی ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا کسی علاقے میں 50 روز تک انٹرنیٹ بند رہنے کی مثال ملتی ہے۔
ٹروتھ کمیشن کا معاملہ
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی ٹروتھ کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور کر چکی ہے، تاہم ان کے بقول حکمران نہ تو آزاد کشمیر میں شفاف انتخابات کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی ٹروتھ کمیشن کے قیام کے لیے۔
بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ پہلے مسلم لیگ ن کی جانب سے بعض نشستوں پر کامیابی کے دعوے کیے گئے، جبکہ میرپور اور مظفرآباد میں انتخابات چوری کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی 11 نشستیں باقی ہیں اور آنے والے نتائج سے صورتحال واضح ہو جائے گی۔
پیپلز پارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہے
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مظفرآباد میں کشمیر کے صدر اور ایک منتخب رکن قومی اسمبلی پر حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ طاقت اور اقتدار کے خواہش مند عناصر کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں حکومت قائم کر لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ماضی کی طرح آج بھی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور پارٹی اپنے منشور کے مطابق انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں صاف، شفاف اور پرامن انتخابات چاہتی ہے۔


