گلگت: پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک (Broad Peak) پر برفانی تودہ گرنے کے بعد لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں کی تلاش کے دوران جمعہ کو چار لاشیں برآمد کر لی گئیں، جبکہ معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا (Nirmal Purja) اور پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی (Sohail Sakhi) سمیت دیگر لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان (Alpine Club of Pakistan) کے مطابق لاپتہ ہونے والے 10 رکنی گروپ میں چھ نیپالی، ایک پاکستانی، ایک عمانی، ایک امریکی اور ایک چینی کوہ پیما شامل تھے۔
نیپالی کوہ پیماؤں میں نرمل پرجا، پور بہادر گرونگ، کیلی پیمبا شیرپا، نیما شیرپا، ناوانگ تھندو شیرپا اور گیالو شیرپا شامل ہیں، جبکہ دیگر کوہ پیماؤں میں عمان کی نذیرہ احمد عبداللہ الحارثی، پاکستان کے سہیل سخی، چین کے وانگ ژونگ اور امریکہ کی میلوری گیز شامل ہیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل عرفان ارشد نے تصدیق کی کہ ریسکیو ٹیموں نے چار لاشیں برآمد کر لی ہیں۔ ان کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں عمان کی نذیرہ احمد عبداللہ الحارثی اور نیپال کے پور بہادر گرونگ کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ دیگر دو لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز ریسکیو آپریشن میں شامل
الپائن کلب آف پاکستان کے سینئر نائب صدر کرار حیدری کے مطابق پاک فوج کے ایوی ایشن ونگ کے دو ریسکیو ہیلی کاپٹر امدادی اہلکاروں اور خصوصی سامان کے ساتھ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے کے لیے روانہ کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ الپائن کلب کی قیادت وفاقی حکومت، پاک فوج اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ موسم کی اجازت ملتے ہی تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر لاپتہ کوہ پیماؤں کو تلاش کیا جا سکے۔
برفانی تودہ ایک ہزار میٹر نیچے لے گیا
الپائن کلب کے جنرل سیکرٹری ایاز شگری کے مطابق حادثے سے قبل مختلف ٹیموں نے مشترکہ طور پر چوٹی سر کرنے کی مہم شروع کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ بعض لاپتہ کوہ پیماؤں کے جی پی ایس ٹریکرز سے موصول ہونے والے سگنلز سے معلوم ہوا ہے کہ برفانی تودہ انہیں تقریباً ایک ہزار میٹر نیچے بہا لے گیا، جہاں وہ برف تلے دب گئے۔
ان کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ مقامی ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز بھی اس حادثے سے متاثر ہوئے ہیں۔
گلگت بلتستان حکومت کا ہنگامی ردعمل
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور پاک فوج کے تعاون سے ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ کوہ پیماؤں کی بحفاظت بازیابی اولین ترجیح ہے۔
نرمل پرجا کون ہیں؟
43 سالہ نرمل پرجا برطانیہ کی بریگیڈ آف گورکھاز اور بعد ازاں رائل میرینز اسپیشل بوٹ سروس میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ دنیا کے ممتاز کوہ پیماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور 2019 میں صرف چھ ماہ اور چھ دن میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔
انہوں نے 2021 میں نیپالی کوہ پیماؤں کی ٹیم کے ساتھ موسم سرما میں پہلی مرتبہ کے ٹو (K2) سر کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
سہیل سخی کی نمایاں کامیابیاں
پاکستان کے ضلع ہنزہ سے تعلق رکھنے والے سہیل سخی نے رواں سال مئی میں دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی کانچن جنگا (Kanchenjunga) کامیابی سے سر کی تھی۔
اس سے قبل وہ بغیر اضافی آکسیجن کے کے ٹو، نانگا پربت، گیشربرم ون اور گیشربرم ٹو بھی سر کر چکے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں پاکستان کے بہترین ہائی آلٹیٹیوڈ کوہ پیماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
نرمل پرجا کے ٹریکر میں حرکت کی اطلاعات
نیپال کے مقامی میڈیا کے مطابق نرمل پرجا کے سیٹلائٹ ٹریکر میں معمولی حرکت ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کے کاروباری شراکت دار منگما گیابو شیرپا نے بتایا کہ ٹریکنگ ڈیوائس کی پوزیشن میں تبدیلی دیکھی گئی ہے، تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نرمل پرجا خود محفوظ ہیں۔
براڈ پیک کیوں خطرناک ؟
قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع براڈ پیک دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے، جس کی بلندی 8,047 میٹر ہے۔ یہ پہاڑ انتہائی دشوار گزار راستوں، غیر متوقع موسم، شدید برف باری اور برفانی تودوں کے باعث دنیا کے خطرناک ترین پہاڑوں میں شمار ہوتا ہے۔
مذید خبریں
پاكستان دنیا كے بہترین سیاحتی مقامات میں شامل – urdureport.com
پاکستان میں سیاحت فروغ پا رہی ہے – urdureport.com
یہ چوٹی آٹھ ہزار میٹر سے بلند ان 14 پہاڑوں میں شامل ہے جنہیں "ڈیتھ زون” کہا جاتا ہے، کیونکہ اس بلندی پر آکسیجن کی شدید کمی انسانی زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔
دنیا بھر کی نظریں ریسکیو آپریشن پر
نرمل پرجا کی عالمی شہرت اور مختلف ممالک کے کوہ پیماؤں کی گمشدگی کے باعث براڈ پیک کا یہ حادثہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ موسم کی اجازت ملتے ہی آپریشن مزید تیز کیا جائے گا اور لاپتہ کوہ پیماؤں تک جلد از جلد پہنچنے کی کوشش جاری ہے۔


