کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں ہونے والے خوفناک دھماکے Sorenj Mine Blast اور کان بیٹھ جانے کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کی تعداد 34 ہو گئی ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں باقی دو مزدوروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ یہ حادثہ رواں سال بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں پیش آنے والا سب سے ہولناک سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے مطابق یہ حادثہ کوئٹہ سے تقریباً 40 کلومیٹر مشرق میں واقع سورینج کی ایک کوئلہ کان Sorenj Coal Mine Accident میں اس وقت پیش آیا جب کان کے اندر کم از کم 36 مزدور کام کر رہے تھے۔ دھماکے کے بعد کان کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا، جس سے متعدد مزدور ملبے تلے دب گئے۔
بیانات
مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کان میں میتھین گیس جمع ہونے کے باعث دھماکہ ہوا، تاہم سرکاری سطح پر حادثے کی حتمی وجہ کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
نیشنل لیبر فیڈریشن کے رہنما عمر حیات کے مطابق دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ کان کے اندر موجود ہالیج آپریٹر اور اس کا معاون، جو حادثے کی اصل جگہ سے کچھ فاصلے پر تھے، بھی جان کی بازی ہار گئے۔ ان کے مطابق دھماکے کے بعد کان کا بڑا حصہ بیٹھ گیا جس نے ریسکیو آپریشن کو انتہائی مشکل بنا دیا۔
بلوچستان کے وزیر برائے معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والے ہر مزدور کے اہل خانہ کو پانچ لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو تین لاکھ روپے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ مائنز اینڈ منرلز سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
شانگلہ کے ایک ہی گاؤں میں کہرام
آل پاکستان مائنز لیبر فیڈریشن کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ کی وادی کے گاؤں پیر آباد سے تعلق رکھنے والے 28 مزدور بھی شامل ہیں۔ ان میں سے آٹھ افراد صرف دو خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے، جس کے باعث پورے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔
متاثرہ خاندان کے بزرگ محمد عالم نے بتایا کہ ان کے چار بھتیجے، جن کی عمریں 19 سے 22 برس کے درمیان تھیں، اس حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ ان کے مطابق نجیب اللہ اور نعیم اللہ سگے بھائی تھے جبکہ ودود اللہ اور ذاکر اللہ ان کے چچا زاد تھے۔ چاروں شادی شدہ تھے اور اپنے خاندانوں کا واحد سہارا سمجھے جاتے تھے۔
لیبر رہنماؤں کے مطابق میتیں آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں اور طویل زمینی سفر کے باعث ان کے شانگلہ پہنچنے میں تقریباً 22 سے 24 گھنٹے لگیں گے۔
مذید خبریں
کوئی لندن میں بیٹھ کر بکواس کر رہا ہےآپ سب بہت جلد واپس آرہے ہیں،محسن نقوی – urdureport.com
بلوچستان کی کانوں میں حادثات کیوں ہوتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں جدید حفاظتی نظام، مؤثر وینٹیلیشن، گیس مانیٹرنگ اور ہنگامی ریسکیو سہولیات کی شدید کمی ہے۔ کانوں میں میتھین اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی خطرناک گیسوں کی موجودگی معمول کی بات ہے، لیکن ان کی بروقت نشاندہی کے لیے جدید ڈیجیٹل آلات اکثر دستیاب نہیں ہوتے۔
ماہر ماحولیات کے مطابق اگر کانوں میں وینٹیلیشن اور گیس ڈیٹیکشن کا مؤثر نظام موجود ہو تو ایسے بیشتر حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کان کے اندر گیس کی مقدار خطرناک حد تک پہنچ جائے تو ایک معمولی چنگاری بھی تباہ کن دھماکے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے پوری کان بیٹھ سکتی ہے۔


