پشاور: خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پانچ اضلاع کے مختلف علاقوں اور اہم سڑکوں پر کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
کرفیو کا فیصلہ ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، شمالی وزیرستان اپر، شمالی وزیرستان لوئر اور جنوبی وزیرستان کی ضلعی انتظامیہ نے کیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق کرفیو کے دوران مخصوص علاقوں میں عام شہریوں اور گاڑیوں کی آمدورفت محدود رہے گی۔ مختلف اضلاع میں کرفیو کے اوقات بھی انتظامیہ کی جانب سے الگ الگ مقرر کیے گئے ہیں۔
جنوبی اضلاع میں سکیورٹی صورتحال تشویشناک
خیبر پختونخوا کے جنوبی علاقوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی چوکیوں، اہلکاروں اور دیگر اہداف کو بھی حملوں کا سامنا رہا ہے۔
چند ہفتے قبل بنوں کے بعض علاقوں میں بھی کرفیو نافذ کیا گیا تھا، جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائیوں کے دوران متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
خیبر پختونخوا پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال شدت پسندی کے واقعات میں 150 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ 2002 سے جولائی 2026 تک صوبے میں مجموعی طور پر 2,396 پولیس اہلکار جان سے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو برس، خصوصاً 2025 اور 2026، پولیس کے لیے سب سے زیادہ ہلاکت خیز رہے ہیں۔
ٹانک میں اہم شاہراہیں بند
ٹانک میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری حکم نامے کے تحت سکیورٹی صورتحال کے باعث مختلف سڑکوں پر عام آمدورفت روک دی گئی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق کرفیو کے دوران ٹانک-جنڈولہ روڈ، ٹانک-ڈی آئی خان روڈ، ڈی آئی خان-ٹانک بائی پاس، سدکئی-کوٹ پٹھان روڈ، دیال-ٹانک بائی پاس، چدرہ غاڑہ-میٹھو روڈ سمیت متعدد چھوٹی بڑی سڑکوں پر ٹریفک کی اجازت نہیں ہوگی۔
پولیس حکام کے مطابق ٹانک میں کرفیو پیر کے روز نافذ کیا گیا ہے اور اس کے باعث ٹانک کو وزیرستان سے ملانے والی مرکزی شاہراہ بھی بند رہے گی۔
یہ اقدام ایسے وقت کیا گیا ہے جب حالیہ دنوں میں ٹانک میں ایک پولیس پوسٹ کو عسکریت پسندوں نے نشانہ بنایا تھا۔ حملے میں 15 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
ڈی آئی خان میں بھی مخصوص راستوں پر پابندی
ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر متعدد شاہراہوں کو عارضی طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے حکم کے مطابق صبح 6 بجے سے شام 7 بجے تک ڈی آئی خان-ٹانک روڈ، کلاچی-ہتالہ روڈ، ٹکوارا-ہتالہ روڈ، کنوری گڑھا-محبت روڈ، چہکن-درباری روڈ اور پوٹاہا-کوٹ عیسیٰ خان روڈ سمیت مختلف راستوں پر آمدورفت معطل رہے گی۔
پوٹاہا-ہتالہ بازار کو بھی مقررہ اوقات کے دوران مکمل طور پر بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق کرفیو کا اطلاق ان علاقوں اور شاہراہوں پر ہے جو ٹانک سے منسلک ہیں، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان کے دیگر علاقوں میں عمومی کرفیو نافذ نہیں کیا گیا۔
شمالی وزیرستان اپر میں سرواکی اور لدھا متاثر
شمالی وزیرستان اپر میں بھی سکیورٹی صورتحال کے باعث سب ڈویژن سرواکی اور لدھا میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے حکم کے مطابق ان علاقوں میں صبح 7 بجے سے شام 7 بجے تک شہریوں اور گاڑیوں کی غیر ضروری نقل و حرکت پر پابندی رہے گی۔
اس دوران مارکیٹیں بھی بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جن اہم سڑکوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں لدھا-مکین روڈ، مکین-تابیسار روڈ، سراروغا-کوٹکئی روڈ، سپینکئی روڈ، درگئی پل-مدی جان روڈ، شین ورسک-مولے خان سرائے روڈ اور سرواکی-مولے خان سرائے روڈ شامل ہیں۔
شمالی وزیرستان لوئر میں وانا سے درگئی تک پابندی
شمالی وزیرستان لوئر کی انتظامیہ نے بھی مختلف علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔
حکم نامے کے مطابق وانا سے درگئی تک متعدد اہم شاہراہوں پر مقررہ اوقات کے دوران ہر قسم کی ٹریفک بند رہے گی۔
انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کرفیو کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کریں۔
ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کو استثنیٰ
ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ احکامات میں ہنگامی خدمات کو کرفیو سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور دیگر ضروری ایمرجنسی سروسز کو معمول کے مطابق آمدورفت کی اجازت ہوگی۔
اس کے علاوہ کسی ہنگامی صورتحال میں پولیس کے ضلعی سربراہ، یعنی ڈی پی او، یا سکیورٹی فورسز سے پیشگی اجازت حاصل کرنے والے افراد اور گاڑیوں کو بھی کرفیو کے دوران سفر کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
شناختی دستاویزات ساتھ رکھنا لازمی
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کرفیو کے دوران کسی مجاز شخص یا گاڑی کے ڈرائیور کو اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے شناختی کارڈ اور گاڑی کے ضروری کاغذات دکھانا ہوں گے۔
سکیورٹی فورسز کی گاڑی سامنے آنے کی صورت میں شہریوں کو اپنی گاڑی تقریباً 50 میٹر کے فاصلے پر روکنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق کرفیو کا مقصد عام شہریوں کو غیر ضروری مشکلات میں ڈالنا نہیں بلکہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے دوران حساس علاقوں میں آمدورفت محدود کرکے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے لیے کارروائیوں کو محفوظ بنانا ہے۔


