اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں منگل 15 ستمبر 2026 کو کمی ریکارڈ کی گئی۔ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں کمی کے رجحان کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ نیچے آگئے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن (اے پی جی جے ایس اے) کی جانب سے جاری کردہ نرخوں کے مطابق، سونے کی فی تولہ قیمت 3,800 روپے کم ہوکر 453,336 روپے ہوگئی۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3,258 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد یہ 388,662 روپے میں فروخت ہوا۔
گزشتہ دنوں سونے کی قیمت
گزشتہ ہفتے ہفتے کے روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 400 روپے کا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد یہ 457,136 روپے تک پہنچ گئی تھی۔
تازہ کمی عالمی منڈی میں سونے کے نرخوں میں جاری تنزلی کے رجحان کے مطابق ہوئی ہے، جس کے اثرات پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ پر بھی پڑے ہیں۔
عالمی منڈی میں سونا سستا
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 38 ڈالر کمی کے بعد 4,308 ڈالر فی اونس ہوگئی۔
بین الاقوامی سطح پر سونے کے نرخوں میں کمی نے پاکستان میں بھی سونے کی قیمتیں کم ہونے میں اہم کردار ادا کیا۔
چاندی کی قیمت میں بھی کمی
مقامی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت بھی کم ہوگئی۔ فی تولہ چاندی 122 روپے سستی ہونے کے بعد 6,802 روپے کی سطح پر آگئی۔
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجوہات
پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران سونے کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ اس کی اہم وجوہات میں پاکستانی روپے کی قدر میں تبدیلی، معاشی حالات اور سیاسی غیر یقینی صورت حال شامل ہیں۔
سونے کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر کئی عوامل سے متاثر ہوتے ہیں، جن میں طلب و رسد، امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر، عالمی منڈی میں سونے کی قیمت، شرح سود اور سرمایہ کاروں کا رجحان شامل ہیں۔
بعض ماہرین سونے کو مہنگائی کے خلاف تحفظ کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں معاشی یا سیاسی غیر یقینی صورت حال کے دوران اس قیمتی دھات کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
سونے کی آئندہ قیمتوں کا اندازہ لگانا مشکل
پاکستان میں سونے کی آئندہ قیمتوں کی درست پیش گوئی آسان نہیں، کیونکہ صرافہ اور عالمی بلین مارکیٹ مختلف معاشی اور مارکیٹ عوامل کے باعث مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے۔
صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے سونے کی قیمتوں میں ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ لیتے وقت عالمی منڈی کے نرخوں کے ساتھ مقامی صرافہ مارکیٹ کی تازہ قیمتوں پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔


