تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، تاہم اگر مذاکرات کے ذریعے ملک کے حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں تو جنگ کی ضرورت نہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی صدر نے یہ گفتگو اپنی حلف برداری کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کی، جہاں انہوں نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کا دفاع کیا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے، تاہم ان کے بقول اگر بات چیت کے ذریعے حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں تو لڑائی کا راستہ اختیار کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
ایرانی صدر نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ جاری رکھنے کا خواہاں ہے تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور اسے اپنے مطالبات تسلیم کرنے یا ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے مذاکرات کے ذریعے بعض معاملات میں پیش رفت حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق بات چیت کے نتیجے میں لبنان میں جنگ روکنے، ناکہ بندی ختم کرنے اور بعض پابندیوں میں نرمی جیسے معاملات میں کامیابی حاصل ہوئی۔
ایرانی مذاکراتی ٹیم میں مختلف اداروں کی نمائندگی
صدر پزشکیان نے اپنی تقریر میں ایران کی مذاکراتی ٹیم سے متعلق بھی اہم تفصیلات بیان کیں۔
انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو مذاکراتی ٹیم کا حصہ بننے کی درخواست کی گئی تھی، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔
ایرانی صدر کے مطابق مذاکراتی ٹیم میں عدلیہ، پارلیمنٹ، مسلح افواج اور دیگر ریاستی اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ مختلف اداروں کے نمائندوں کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنے کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ ایران کے تمام اہم ادارے اس معاملے پر متحد اور ایک موقف رکھتے ہیں۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ملک اپنے بنیادی حقوق اور مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، تاہم قومی مفادات کے حصول کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو جنگ پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔


