اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت ایک بار پھر عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بننے جا رہا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفود کی متوقع آمد کے پیش نظر سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ شہر بھر میں سیکیورٹی کے لیے پنجاب کے 10 اضلاع سے پولیس کی اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے جبکہ تقریباً 18 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ریڈ زون سیل
حکام کا کہنا ہے کہ توسیع شدہ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کیا جائے گا، جبکہ فائیو اسٹار ہوٹلز، کنونشن سینٹرز اور اہم سرکاری و سفارتی مقامات کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ایک جامع ٹریفک پلان بھی تیار کر لیا گیا ہے جس کے تحت مختلف اہم شاہراہیں بند رکھی جا سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق میڈیا کے لیے خصوصی سینٹر قائم کیا جائے گا اور رسائی محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر موبائل سروس کی عارضی معطلی اور مقامی تعطیل کا امکان بھی زیر غور ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں
دوسری جانب پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف Shehbaz Sharif نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا جہاں ان کی سعودی ولی عہد سے اہم ملاقات ہوئی۔ جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر Asim Munir اور وزیر داخلہ محسن نقوی Mohsin Naqvi نے تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
ترجمان دفتر خارجہ Tahir Hussain Andrabi کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے اور اس کا مقصد خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان ایران اور سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور جامع امن کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات سے متعلق افواہوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط اور دیرینہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر مذاکرات شیڈول کے مطابق ہوئے تو آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ان کا انعقاد متوقع ہے، جس کے لیے سیکیورٹی اور انتظامی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


