امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان عملی طور پر لڑائی ختم ہو چکی ہے۔
بی بی سی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے جمعرات کو بتایا کہ جنگ بندی کے بعد سے امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان کسی قسم کی جھڑپ یا فوجی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ان کے مطابق وار پاورز ایکٹ کے تناظر میں 28 فروری سے شروع ہونے والا تنازع اب اختتام کو پہنچ چکا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے قریب ہے، جس کے تحت انہیں یا تو ایران کے خلاف کارروائیاں روکنا ہوں گی یا پھر جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے باقاعدہ منظوری لینا ہوگی۔
امریکی قانون کے مطابق صدر بغیر کانگریس کی اجازت کے 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم اس کے بعد مزید کارروائی کے لیے منظوری یا محدود مدت کی توسیع درکار ہوتی ہے۔
امریکی سینٹ سے قرار مسترد
دوسری جانب امریکی سینیٹ نے ایران میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق قرارداد مسترد کر دی ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم شف کی پیش کردہ قرارداد کو 47 ووٹ ملے جبکہ 50 سینیٹرز نے اس کی مخالفت کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹر مین نے اپنی جماعت کے مؤقف کے برعکس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ دو ریپبلکن سینیٹرز سوزن کولنز اور رینڈ پال نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔
سینیٹر سوزن کولنز نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر کے اختیارات لامحدود نہیں اور آئین کے تحت جنگ و امن کے فیصلوں میں کانگریس کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے کسی بھی آئندہ فوجی اقدام کے لیے واضح حکمت عملی، قابلِ حصول اہداف اور تنازع کے خاتمے کا واضح منصوبہ ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ان نکات پر وضاحت سامنے نہیں آتی، وہ فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے حق میں کھڑی رہیں گی۔
یہ بھی پڑھئیے


