پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا، نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 51 پیسے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے کا اضافہ ہوا ہے، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 3 روپے 88 پیسے کم کردی گئی، ڈیزل پر فی لیٹر 28 روپے 69 پیسے لیوی عائد کی گئی ہے، ڈیزل پر پہلے لیوی صفر تھی۔
ایچ او بی سی پر لیوی 305 روپے 37 پسے فی لیٹر پہلے ہی عائد ہے، مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20 روپے 36 پسے فی لیٹر مقرر ہے جبکہ لائٹ ڈیزل پر لیوی 15 روپے 84 پسے فی لیٹر بھی پہلے سے عائد ہے
تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جب ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی فوج صدر ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump کو ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے نئے منصوبوں پر بریفنگ دینے والی ہے۔
عالمی منڈی مین قیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں بھِ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں مین بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ ملک بھر میں پٹرول پمپوں پر بڑی بڑی قطاریں لگ چکی ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک کی حالیہ صورتحال اور عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کے دباؤ کے پیش نظر معاشی طور پر کمزور طبقے کو بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے موٹر سائیکل سواروں، پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے گزشتہ ماہ دی جانے والی سبسڈی کی مدت میں مزید ایک ماہ کی توسیع کردی ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 7 فیصد بڑھ کر ایک وقت میں 126 ڈالر (94 پاؤنڈ) فی بیرل سے زیادہ ہو گئی، تاہم بعد میں اس میں کمی آ گئی تاہم اس غیر یقینی صورتحال میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان بھِ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف "مختصر اور طاقتور” حملوں کی ایک لہر کا منصوبہ تیار کیا ہے تاکہ تہران کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کو ختم کیا جا سکے۔
اس ہفتے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ امن مذاکرات تعطل کا شکار نظر آ رہے ہیں، جبکہ اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز بدستور عملی طور پر بند ہے اور امریکہ ایران مزاکرات بھی کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔
جمعرات کو برینٹ کروڈ کی قیمت 126.31 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو روس کی یوکرین پر مکمل حملے کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔ تاہم دن کے آخر میں قیمت کم ہو کر تقریباً 114 ڈالر فی بیرل رہ گئی ۔
یہ بھی پڑھئِے
’وزیراعظم اپنا گھر‘ اسکیم کا آغاز، آسان قرضوں سے گھر کی خریداری ممکن بنانے کا اعلان – urdureport.com
تیل کی قیمت میں اچانک اتار چڑھاؤ کی ایک وجہ "فیوچر کنٹریکٹس” کی ڈیڈ لائن بھی بتائی جا رہی ہے، جو ایسے معاہدے ہوتے ہیں جن کے تحت کسی شے کو ایک مقررہ تاریخ پر خریدنے یا بیچنے کا طے کیا جاتا ہے۔


