لاہور: غیر ملکی خواتین سے مبینہ اغوا، اجتماعی زیادتی اور تاوان طلب کرنے کے مقدمے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں فرانزک تجزیے کے دوران تین زیرِ حراست ملزم کا ڈی این اے متاثرہ خاتون کے نمونوں سے میچ کر گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈی این اے رپورٹ سامنے آنے کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور دیگر گرفتار افراد کے کردار کا بھی مختلف شواہد کی بنیاد پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان میں شامل نواز نامی شخص پر الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر سب سے پہلے غیر ملکی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ اس پر دیگر ملزمان کو بھی مبینہ جرم میں شامل ہونے پر اکسانے کا الزام ہے۔ملزمان نواز،ساجد اور سکندر کا ڈی این اے خواتین سے میچ کر گیا۔
تفتیشی حکام کے مطابق کیس کے تمام پہلوؤں پر قانونی تقاضوں کے مطابق تحقیقات جاری ہیں، جبکہ فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
مقدمے کا اندراج
یہ مقدمہ 2 جولائی کو لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں درج کیا گیا تھا، جس میں دو غیر ملکی خواتین نے پانچ افراد کے خلاف مبینہ اغوا، اجتماعی زیادتی اور تاوان طلب کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار، نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی اسٹیفنی ایڈریانا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں رضا ڈار سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد مبینہ طور پر انہیں اور ان کی ساتھی خاتون کو پاکستان آنے کی دعوت دی گئی اور ویزوں کے انتظامات بھی کیے گئے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین میں ایک کا تعلق نیدرلینڈز جبکہ دوسری کا تعلق وینزویلا سے ہے۔ دونوں 29 جون کو پاکستان پہنچیں، جہاں انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔
پولیس تحقیقات
تحقیقات کے مطابق نیدرلینڈز میں موجود ایک خاتون کے والد کی اطلاع پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دونوں خواتین کو لاہور کے علاقے ڈیفنس سے بازیاب کرایا۔
کیس درج ہونے کے بعد پولیس نے مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا، جنہیں عدالت نے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا۔ بعد ازاں ایک سیکیورٹی گارڈ سمیت مزید ملزمان کو بھی حراست میں لے لیا گیا، جس کے بعد گرفتار افراد کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔
تحقیقات مکمل ہونے سے قبل ہی دونوں متاثرہ غیر ملکی خواتین پاکستان سے اپنے اپنے ممالک واپس روانہ ہو چکی ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متاثرہ خواتین اور ملزمان کے درمیان کرپٹو کرنسی سے متعلق کاروباری شراکت داری موجود تھی۔ الزام ہے کہ ملزمان نے سرمایہ کاری پر منافع کا لالچ دے کر خواتین کو پاکستان بلایا، جس کے بعد مبینہ طور پر یہ واقعہ پیش آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں اور حتمی نتائج عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد کی روشنی میں سامنے آئیں گے۔


