سکردو: گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک (Broad Peak) پر برفانی تودہ گرنے کے المناک واقعے میں عالمی شہرت یافتہ نیپالی نژاد برطانوی کوہ پیما نرمل پرجا (Nirmal Purja) سمیت نو کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے، جبکہ پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی (Sohail Sakhi) تاحال لاپتا ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان (Alpine Club of Pakistan) کے مطابق ریسکیو اہلکار تقریباً 5,700 میٹر کی بلندی پر نرمل پرجا کی لاش تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ تین دیگر غیر ملکی کوہ پیماؤں کی لاشیں بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔ خراب موسم، برفباری اور دشوار گزار راستوں کے باعث امدادی کارروائیاں انتہائی مشکلات کا شکار ہیں۔
یہ حادثہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب نرمل پرجا کی قیادت میں 10 رکنی بین الاقوامی کوہ پیمائی ٹیم براڈ پیک کی مہم پر تھی۔ برفانی تودہ گرنے کے بعد ٹیم سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا، جبکہ بعد ازاں ان کی مہم چلانے والی کمپنی نے تصدیق کی کہ کوئی بھی رکن زندہ نہیں بچ سکا۔
حکام کے مطابق برآمد ہونے والی لاشوں میں ایک عمانی خاتون، ایک نیپالی شہری اور ایک امریکی خاتون بھی شامل ہیں، جنہیں سکردو منتقل کر دیا گیا ہے۔ مہم میں ایک چینی شہری اور دیگر نیپالی کوہ پیما بھی شریک تھے۔
نرمل پرجا کون تھے؟
43 سالہ نرمل پرجا، جنہیں "نمز دائی” (Nims Dai) کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، جدید دور کے کامیاب ترین کوہ پیماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے 2019 میں محض چھ ماہ کے اندر دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیاں سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا، جس نے انہیں بین الاقوامی شہرت دلائی۔
2021 میں ان کی غیرمعمولی کامیابیوں پر مبنی نیٹ فلکس (Netflix) کی دستاویزی فلم "14 Peaks: Nothing Is Impossible” ریلیز ہوئی،۔
نرمل پرجا نیپال کے علاقے ڈھولگیری کے قریب پیدا ہوئے اور نوجوانی میں برطانوی فوج (British Army) کی گورکھا رجمنٹ میں شامل ہوئے۔ بعد ازاں وہ رائل نیوی اسپیشل بوٹ سروس (Royal Navy Special Boat Service – SBS) کا بھی حصہ رہے۔ فوجی خدمات چھوڑنے کے بعد انہوں نے مکمل طور پر کوہ پیمائی کو اپنا میدان بنایا اور مختصر عرصے میں متعدد عالمی ریکارڈ اپنے نام کیے، جن میں چھ گنیز ورلڈ ریکارڈز (Guinness World Records) بھی شامل ہیں۔
براڈ پیک کی مہم پر روانگی سے چند روز قبل نرمل پرجا نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر وہ یہ چوٹی سر کر لیتے تو آٹھ ہزار میٹر سے بلند تمام 14 چوٹیوں کو بغیر اضافی آکسیجن کے دو مرتبہ سر کرنے والے تاریخ کے پہلے کوہ پیما بننے کے مزید قریب پہنچ جاتے۔نرمل پرجا کی ہلاکت پر نیپال، برطانیہ اور عالمی کوہ پیمائی برادری میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سہیل سخی تاحال لاپتا
براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں دیگر لاشوں کی تلاش اور منتقلی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ر) عرفان ارشد پاکستانی حکام نے ابھی ت ک سہیل سخی (Sohail Sakhi)کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ خراب موسم اور دشوار گزار علاقے کے باعث امدادی کارروائیاں انتہائی مشکل ہیں۔
مذید خبریں
براڈ پیک پر برفانی تودہ: لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش جاری، 4 لاشیں برآمد – urdureport.com
سکردو: جنت نظیر وادی سیاح رخ كر نے لگے – urdureport.com
عرفان ارشد نے بتایا کہ اب تک چار لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جن میں چوتھی لاش نیپالی کوہ پیما گیالو شرپا (Gyalu Sherpa) کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاش کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد زمینی ٹیم نے اسے بیس کیمپ منتقل کیا اور پھر ہیلی کاپٹر کے ذریعے سکردو پہنچایا گیا۔
دوسری جانب نرمل پرجا کی کمپنی ایلیٹ ایکسپیڈیشنز (Elite Expeditions) نے دعویٰ کیا ہے کہ مہم میں شامل تمام 10 کوہ پیما برفانی تودے کے حادثے میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔۔


