پاکستان کا 1000 واں ون ڈے؛ عرفات منہاس کے تاریخی ڈیبیو نے آسٹریلیا کو 200 رنز تک محدود کردیا اور پاکستان نے تاریخی فتح سمیٹی۔
پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے ہرادیا، عرفات منہاس نے میچ کا وننگ چھکا لگایا۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جا رہے تاریخی پہلے ایک روزہ میچ میں قومی باؤلرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہمان ٹیم کو 44.1 اوورز میں 200 رنز پر آؤٹ کردیا۔
پاکستان کو اپنے ایک ہزارویں ون ڈے انٹرنیشنل میں فتح اور تین میچوں کی سیریز میں برتری حاصل کرنے کے لیے 201 رنز کا ہدف ملا ہے۔ قومی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جو پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کی اسپن سازگار وکٹ پر درست ثابت ہوا۔
عرفات منہاس کا جادو چل گیا
میچ کی سب سے نمایاں کارکردگی 21 سالہ اسپنر عرفات منہاس نے دکھائی، جنہوں نے اپنے ون ڈے کیریئر کے پہلے ہی میچ میں 10 اوورز میں صرف 32 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ اس کارنامے کے ساتھ وہ پاکستان کی جانب سے اپنے ڈیبیو ون ڈے میں پانچ وکٹیں لینے والے پہلے باؤلر بن گئے۔
آسٹریلیا کی اننگز کا آغاز مشکلات سے دوچار رہا۔ ایلکس کیری 19 رنز بنا کر ابرار احمد کا شکار بنے، جبکہ مارنس لبوشین اور کیمرون گرین کھاتہ کھولے بغیر پویلین واپس لوٹ گئے۔
آسٹریلوی بیٹنگ لائن میں میتھیو شارٹ اور میٹ رینشا نے مزاحمت کی۔ شارٹ نے 55 جبکہ رینشا نے 61 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کو 200 کے مجموعے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس کے علاوہ ابرار احمد نے دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور سلمان علی آغا نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
پاکستان کی بلے بازی
دوسری جانب پاکستان نے 201 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اپنی بیٹنگ کا آغاز کر دیا ہے۔
پاکستان نے ون ڈے تاریخ میں نیا سنگ میل عبور کر لیا
آج کے میچ کے ساتھ پاکستان نے اپنا 1000 واں ون ڈے انٹرنیشنل کھیل کر ایک اور تاریخی اعزاز اپنے نام کر لیا۔ اس یادگار موقع پر راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میزبان بنا، جبکہ میچ سے قبل آسٹریلوی کپتان جوش انگلس نے پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی کو خصوصی یادگاری سووینئر پیش کیا۔
پاکستان دنیا کی تیسری ٹیم بن گیا ہے جس نے ون ڈے کرکٹ میں ایک ہزار میچز کھیلنے کا سنگ میل عبور کیا ہے، جو ملک کی کرکٹ تاریخ اور مسلسل بین الاقوامی موجودگی کا اہم ثبوت ہے۔
ٹاس کے موقع پر شاہین شاہ آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تاریخی 1000 ویں ون ڈے میں قومی ٹیم کی قیادت کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے اور پوری ٹیم اس یادگار مقابلے کو فتح کے ساتھ مزید خاص بنانے کے لیے پُرعزم ہے


