ایک وقت تھا جب پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں بڑے سپر اسٹارز کی بھرمار نہیں تھی، مگر ہر کھلاڑی اپنی ذمہ داری نبھاتا تھا اور اجتماعی کارکردگی ہی ٹیم کی اصل طاقت سمجھی جاتی تھی۔ یہی وہ فلسفہ تھا جس کی بنیاد پر مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان 2016 میں آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں دنیا کی نمبر ون ٹیم بنا اور تاریخی اعزاز اپنے نام کیا۔
آج صورتحال یکسر مختلف دکھائی دیتی ہے۔ پاکستانی ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ شکست کے بعد آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں آٹھویں نمبر تک جا پہنچی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کے بدترین ادوار میں سے ایک ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کی کارکردگی مسلسل تنزلی کا شکار رہی۔ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز جیتنے میں ناکامی، آسٹریلیا میں مسلسل وائٹ واش اور بنگلہ دیش کے ہاتھوں حیران کن شکستوں نے ٹیم کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
شان مسعود کی قیادت میں 2024 سے اب تک پاکستان نے 16 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے 12 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مواقع پر ٹیم مضبوط پوزیشن میں ہونے کے باوجود میچ اپنے ہاتھ سے گنواتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین ٹیم کی ذہنی مضبوطی، منصوبہ بندی اور عملدرآمد پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
ماہرین کی نظر میں اصل مسئلہ کیا ہے؟
کرکٹ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کی موجودہ مشکلات کی کوئی ایک وجہ نہیں۔ ان کے مطابق مسائل کی ایک طویل فہرست ہے جس میں ناقص سلیکشن، پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلے، ڈومیسٹک کرکٹ کے غیر مستحکم ڈھانچے، بار بار پالیسیوں کی تبدیلی اور ٹی 20 کرکٹ کو ضرورت سے زیادہ ترجیح دینا شامل ہیں۔
مذید پڑھئِے
اگر موقع ملا تو 2027 کا ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے تیار ہوں،کوہلی – urdureport.com
فیفا نے ورلڈ کپ 2026کی انعامی رقم کا اعلان کر دیا – urdureport.com
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، مگر باصلاحیت کھلاڑیوں کو مستقل بنیادوں پر مواقع اور مناسب رہنمائی نہیں مل رہی۔ کئی نوجوان کھلاڑی بین الاقوامی سطح کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے سے پہلے ہی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
مصباح الحق کے دور کی کامیابی کا راز
ماہرین کے مطابق مصباح الحق کی کامیابی کی بنیادی وجہ ان کی قائدانہ صلاحیت، مستقل مزاجی اور ٹیم میں اعتماد پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے اپنی ذاتی کارکردگی بہتر بنا کر مثال قائم کی اور دیگر کھلاڑیوں کو بھی ذمہ داری کا احساس دلایا۔
مصباح کے دور میں یاسر شاہ، سعید اجمل اور کئی دیگر کھلاڑیوں نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ ٹیم نے متحدہ عرب امارات کی کنڈیشنز کو اپنے حق میں استعمال کیا اور ایک واضح حکمت عملی کے تحت کھیلتے ہوئے اہم فتوحات حاصل کیں۔
کیا تمام ذمہ داری کپتان پر عائد ہوتی ہے؟
بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ شکستوں کے بعد کپتان شان مسعود شدید تنقید کی زد میں ہیں، تاہم کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف کپتان کو ذمہ دار قرار دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔
ان کے مطابق سوال صرف کپتانی کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے۔ سلیکشن کمیٹی، کوچنگ سٹاف، ڈومیسٹک ڈھانچہ اور کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں سمیت متعدد عوامل ٹیم کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
بہتری کا راستہ کیا ہے؟
کرکٹ ماہرین کے مطابق پاکستان کو فوری اور طویل المدتی دونوں سطحوں پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
- ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے مستقل اور طویل المدتی نظام متعارف کرایا جائے۔
- مختلف شہروں میں مختلف نوعیت کی پچز تیار کی جائیں تاکہ کھلاڑی ہر طرح کی کنڈیشنز کا تجربہ حاصل کر سکیں۔
- سلیکشن کے عمل میں شفافیت لائی جائے اور سفارش یا پسند ناپسند کی روایت ختم کی جائے۔
- نوجوان فاسٹ بولرز اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی مناسب سرپرستی کی جائے۔
- کرکٹ انتظامیہ میں تجربہ کار اور پیشہ ور افراد کو ذمہ داریاں دی جائیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر درست سمت میں مستقل مزاجی کے ساتھ فیصلے کیے جائیں تو پاکستان دوبارہ عالمی ٹیسٹ کرکٹ میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے وقتی ردِعمل کے بجائے ایک جامع اور دیرپا حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔


