• Home  
  • پشاور پندرہ سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی! مقدمہ اندراج میں تاخیر
- پاکستان

پشاور پندرہ سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی! مقدمہ اندراج میں تاخیر

پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں ایک 15 سالہ مدرسے کی طالبہ کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا مقدمہ واقعے کے قریباً پانچ ہفتے بعد درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق تاخیر کی وجہ ایک مقامی جرگہ کی وجہ سے ہوئی۔ وقوعہ کیسے رونما ہوا؟ متاثرہ لڑکی کے والد نے 21 جون کو […]

پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں ایک 15 سالہ مدرسے کی طالبہ کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا مقدمہ واقعے کے قریباً پانچ ہفتے بعد درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق تاخیر کی وجہ ایک مقامی جرگہ کی وجہ سے ہوئی۔

وقوعہ کیسے رونما ہوا؟

متاثرہ لڑکی کے والد نے 21 جون کو تھانہ بڈھ بیر میں درج کرائی گئی ایف آئی آر میں بتایا کہ واقعہ قریباً 35 دن پہلے پیش آیا، جب ان کی بیٹی روزمرہ کے معمول کے مطابق مدرسے جا رہی تھی۔ الزام کے مطابق ایک نوجوان، جس کی شناخت بعد میں عاطف کے نام سے ہوئی، اسے کپڑے دینے کے بہانے اپنے گھر لے گیا، جہاں پہلے سے موجود دو مزید افراد — اقرار اور احمد — نے بھی مبینہ طور پر زیادتی کی۔

ایف آئی آر میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ ملزمان نے واقعے کی ویڈیو بنا کر طالبہ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔

جرگے کی ثالثی اور معاہدے کا ٹوٹنا

ایس ایچ او بڈھ بیر واجد خان نے میڈیا کو بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد مقامی عمائدین پر مشثمل جرگے نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک ملزم متاثرہ لڑکی سے شادی کرے گا اور والد کو بیس لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ دونوں فریق ابتدا میں اس پر رضامند ہوئے، مگر معاوضے کی رقم کی ادائیگی پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ ملزمان کی جانب سے رقم دینے میں لیت و لعل کے بعد ہی والد نے پولیس سے رجوع کیا۔

پولیس اب جرگے میں شریک بعض عمائدین سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ مقدمہ درج کرانے میں تاخیر اور جرگے کے کردار کا جائزہ لیا جا سکے۔

ایف آئی آر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 اور چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت درج کی گئی ہے، جبکہ تینوں نامزد ملزمان عاطف، اقرار اور احمد کو گرفتار کر کے تفتیش کی جا رہی ہے۔ ایس ایچ او کے مطابق ملزمان کو جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

سماجی کارکنوں کا مؤقف

انہوں نے قانونی اصلاحات اور معاشرتی آگاہی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جرگوں کے فیصلوں کو قانونی حیثیت نہیں دی جانی چاہیے، اور متاثرین کو براہِ راست عدالتی نظام تک رسائی آسان بنائی جانی چاہیے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!