• Home  
  • سور کا گوشت کھانے پر خاتون کے دماغ میں 32 کیڑوں کی پیدائش
- خواتین کارنر

سور کا گوشت کھانے پر خاتون کے دماغ میں 32 کیڑوں کی پیدائش

برطانیہ کے علاقے ویلز سے تعلق رکھنے والی 42 سالہ لاؤری ڈینمین کی زندگی اس وقت غیر متوقع موڑ اختیار کر گئی جب ایک نایاب دماغی انفیکشن کی تشخیص میں معلوم ہوا کہ ان کے دماغ میں 38 پرجیوی کیڑے موجود ہیں۔ لاؤری کے مطابق مسئلے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب انہیں بیت الخلا […]

برطانیہ کے علاقے ویلز سے تعلق رکھنے والی 42 سالہ لاؤری ڈینمین کی زندگی اس وقت غیر متوقع موڑ اختیار کر گئی جب ایک نایاب دماغی انفیکشن کی تشخیص میں معلوم ہوا کہ ان کے دماغ میں 38 پرجیوی کیڑے موجود ہیں۔

لاؤری کے مطابق مسئلے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب انہیں بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد تقریباً ایک میٹر لمبا ٹیپ وارم نظر آیا۔ ابتدائی طبی معائنے میں کوئی تشویشناک بات سامنے نہ آئی، تاہم کچھ عرصے بعد انہیں شدید سر درد، مرگی جیسے دورے اور بولنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق

سی ٹی سکین اور ایم آر آئی کے ذریعے ڈاکٹروں نے انکشاف کیا کہ ان کے دماغ میں درجنوں لاروا موجود ہیں، جس کے بعد انہیں نیورو سسٹیسرکوسس نامی نایاب بیماری تشخیص ہوئی۔ یہ بیماری عموماً سؤر کے ٹیپ وارم کے انڈوں سے پھیلتی ہے، جو آلودہ خوراک، پانی یا ناقص صفائی کے باعث انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔

لاوری کا موقف

لاؤری نے بتایا کہ وہ 2007 میں تین ماہ کے لیے انڈیا گئی تھیں۔ اگرچہ اس دوران انہوں نے گوشت کھانے سے حتی الامکان پرہیز کیا، لیکن معالجین کا خیال ہے کہ انھوں نے نادانستہ طور پر سؤر کا ایسا گوشت کھا لیا جس میں ٹیپ وارم کے انڈے موجود

تشخیص کے بعد انہیں کئی ہفتوں تک ہسپتال میں زیر علاج رکھا گیا، جہاں ادویات اور سٹیرائیڈز دیے گئے۔ علاج کے بعد کچھ عرصہ ان کی صحت بہتر رہی، مگر بعد میں دوبارہ دماغ میں سوجن پیدا ہونے سے ان کی جسمانی اور ذہنی حالت شدید متاثر ہوئی۔ سٹیرائیڈز کے مضر اثرات کے باعث ان کی ظاہری شکل بھی تبدیل ہو گئی اور وہ ڈپریشن اور شدید بے چینی کا شکار رہیں۔

لاوری کی دوست کا انکشاف

لاؤری کی قریبی دوست نے بتایا کہ بیماری کے دوران ان کے رویے میں غیر معمولی تبدیلی آ گئی تھی اور وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے بھی خوفزدہ رہتی تھیں، جس سے خاندان اور دوست سخت پریشان تھے۔

طویل علاج اور بحالی کے بعد ان کی حالت میں نمایاں بہتری آئی۔ انہوں نے دوبارہ تعلیم مکمل کی، انٹیریئر ڈیزائننگ کی ڈگری حاصل کی اور 2022 میں ملازمت پر بھی واپس آ گئیں۔

ان کے معالج ڈاکٹر برینڈن ہیلی کے مطابق اپنے پورے پیشہ ورانہ کیریئر میں یہ اپنی نوعیت کا واحد کیس تھا، جبکہ برطانیہ میں اس بیماری کے ایسے مریض انتہائی کم دیکھنے میں آتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا موقف

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ علاج کے نتیجے میں دماغ میں موجود تمام لاروا ختم ہو چکے ہیں اور اب وہ کیلسیفائی ہو چکے ہیں۔ اگرچہ لاؤری کو 2017 کے بعد کوئی دورہ نہیں پڑا، تاہم انہیں احتیاطاً زندگی بھر مرگی کی دوا استعمال کرنا ہوگی۔

لاؤری اب اپنی داستان دوسروں تک پہنچا کر اس نایاب بیماری سے متعلق آگاہی پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ زندہ اور صحت مند ہونے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی نعمت سمجھتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ ان کا تجربہ دوسروں کے لیے سبق اور احتیاط کا باعث بنے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!