قطر کی وزارت داخلہ نے غیر ملکی رہائشیوں کے لیے اقامتی اجازت نامے (ریزیڈنسی پرمٹ) سے متعلق اہم تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے ملک چھوڑنے کی رعایتی مدت کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق اگر کسی غیر ملکی کا اقامہ منسوخ ہو جائے تو اب اسے قطر چھوڑنے کے لیے صرف 14 دن کی مہلت دی جائے گی، جبکہ اس سے قبل یہ مدت 30 دن تھی۔ مقررہ وقت کے بعد ملک میں قیام جاری رکھنے والوں پر یومیہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
یہ اعلان وزارت داخلہ کے پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے منعقدہ ایک آن لائن آگاہی سیشن کے دوران کیا گیا، جس میں محفوظ سفر اور امیگریشن ضوابط سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔
جرمانوں کا اعلان
ایئرپورٹ پاسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت اقامہ منسوخ ہونے کے بعد 14 دن سے زائد قیام پر روزانہ 10 قطری ریال جرمانہ وصول کیا جائے گا۔ اسی طرح وزٹ ویزا رکھنے والے افراد اگر مقررہ مدت سے زیادہ قیام کریں تو ان پر روزانہ 200 قطری ریال جرمانہ عائد ہوگا۔
وزارت داخلہ نے رہائشیوں اور شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ سفر سے قبل اپنی قانونی اور سفری حیثیت کی جانچ ضرور کریں۔ اس مقصد کے لیے "متراس” موبائل ایپ کو استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں ٹریفک جرمانوں، اوور اسٹے فیس اور دیگر واجبات کی تفصیلات دستیاب ہوتی ہیں۔
ائیرپورٹ پر ای گیٹس
حکام کے مطابق قطر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسافروں کی سہولت کے لیے درجنوں ای گیٹس فعال ہیں، جن کے ذریعے امیگریشن کا عمل تیز اور آسان بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نئے پاسپورٹ پر اقامہ منتقل کرنے سمیت متعدد خدمات بھی آن لائن دستیاب ہیں۔
مذید خبریں
کینیڈین شہریت کے بعض کیسز دوبارہ کھل گئے ، شہریوں میں تشویش – urdureport.com
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا پری امیگریشن منصوبے پر اتفاق – urdureport.com
نوزائیدہ بچوں کے حوالے سے وزارت داخلہ نے والدین کو یاد دہانی کرائی ہے کہ قطر میں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے بروقت اقامتی دستاویزات بنوانا ضروری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر بچے کے لیے رہائشی اجازت نامہ حاصل نہ کیا جائے اور وہ ملک سے باہر چلا جائے تو بعد میں قطر واپسی کے دوران مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق نئی تبدیلیوں کا مقصد امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد، غیر قانونی قیام کی روک تھام اور ڈیجیٹل خدمات کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔


