بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اتوار کی صبح چمن پھاٹک کے قریب ایک شدید دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 70 سے زائد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین، بچے اور سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے علاقے سے گزر رہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق بارودی مواد سے بھری ایک گاڑی ٹرین کے قریب پہنچنے کے بعد زور دار دھماکے سے پھٹ گئی، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
وفاقی وزیر کا موقف
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق دھماکے کی شدت سے ٹرین کا انجن اور تین بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو کوچز الٹ گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائی ہے جس کا مقصد شہریوں اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا تھا، تاہم ایسے حملے قومی عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
مذید پڑھئیے
امریکہ ایران امن معاہدہ مسودہ طے،24 گھنٹوں میں باضابطہ – urdureport.com
پنجاب میں نیا غنڈہ ایکٹ :گینگسٹرز اور قبضہ گروپ شکنجے میں – urdureport.com
وزیراعلیٰ بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے تین اہلکار بھی شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
وزیر اعظم سمیت دیگر ی مذمت
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی ایسی کارروائیاں پاکستانی عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں اور حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔
کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی میں فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی ٹرین کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم حکام کی جانب سے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق شٹل ٹرین مسافروں کو کینٹ اسٹیشن سے سٹی ریلوے اسٹیشن منتقل کر رہی تھی جہاں سے انہیں پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس میں سوار ہونا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ مسافروں میں بڑی تعداد سرکاری ملازمین اور سکیورٹی اہلکاروں کی تھی جو عید کی تعطیلات کے لیے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کر رہے تھے۔
دھماکے سے ریلوے لائن کے اطراف واقع متعدد گھروں اور پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا اور جل گئیں۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس کے نتیجے میں گھروں کے شیشے، دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔
حادثے کے بعد کوئٹہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ فوج، ریسکیو اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں ریلوے تنصیبات اور خصوصاً جعفر ایکسپریس ماضی میں بھی دہشت گرد حملوں اور تخریب کاری کا نشانہ بنتی رہی ہے، جس کے باعث مختلف اوقات میں ٹرین سروسز متاثر ہوتی رہی ہیں۔


