پاکستانی ڈراموں کی دنیا میں ایک خاموش مگر نمایاں تبدیلی جنم لے رہی ہے۔ وہ خواتین اداکارائیں جنہیں برسوں تک صرف ماں، ساس یا دادی کے روایتی کرداروں تک محدود رکھا گیا، اب انہیں زیادہ جاندار، پیچیدہ اور جذبات سے بھرپور کردار ملنے لگے ہیں۔
صبا حمید، ثانیہ سعید، حنا خواجہ بیات، ارجمند رحیم، سویرا ندیم اور نادیہ افغان سمیت کئی سینئر اداکاراؤں نے حالیہ ڈراموں میں ایسے کردار نبھائے ہیں جو محض مرکزی کرداروں کو آگے بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی الگ کہانی اور شخصیت رکھتے ہیں۔

اس وقت صبا حمید حالیہ ڈرامہ ’ڈاکٹر بہو‘ میں ڈاکٹر فرحین کے کردار میں نظر آئیں، جبکہ ثانیہ سعید نے ’آپ کی عزت‘ میں اہم کردار ادا کیا۔ حنا خواجہ بیات ’ایک اور پاکیزہ‘ کا حصہ رہیں، ارجمند رحیم نے ’ضبط‘ میں شمسا بیگم کا کردار نبھایا، جبکہ سویرا ندیم کا نمایاں حالیہ ڈرامہ ’بسمل‘ ہے۔ نادیہ افغان بھی ’ایک اور پاکیزہ‘ میں عالیہ کے کردار میں جلوہ گر ہوئیں، جبکہ ارجمند رحیم نے ’شیر‘ میں تاج بی بی اور نادیہ افغان نے سائقہ کا کردار ادا کیا۔
ماں اور ساس کے روایتی کردار سے آگے
پاکستانی ڈراموں میں ایک طویل عرصے تک بڑی عمر کی خواتین کے لیے کرداروں کی ایک محدود دنیا موجود تھی۔ یا تو وہ قربانی دینے والی ماں ہوتیں یا گھر کے معاملات اپنے ہاتھ میں رکھنے والی سخت گیر ساس۔
دوسری جانب عمر رسیدہ مرد اداکاروں کو سیاست دان، جاگیردار، کاروباری شخصیت، جج، ولن اور حتیٰ کہ رومانوی ہیرو کے کردار بھی ملتے رہے۔ ہمایوں سعید، فیصل رحمان، فیصل قریشی اور عدنان صدیقی جیسے اداکار 50 کی دہائی میں بھی مرکزی رومانوی کرداروں میں نظر آتے رہے، جبکہ اسی عمر کی خواتین کو عموماً ماں یا ساس کے کرداروں تک محدود کر دیا جاتا تھا۔
اب یہ روایت آہستہ آہستہ ٹوٹتی دکھائی دے رہی ہے۔

جب کردار صرف ’ماں‘ نہیں رہتا
نئے ڈراموں میں بڑی عمر کی خواتین کو اب صرف کسی ہیرو یا ہیروئن کی والدہ کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا بلکہ ان کے ماضی، خواہشات، پچھتاووں، کمزوریوں اور فیصلوں کو بھی کہانی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
کسی سخت مزاج ساس کے رویے کے پیچھے اس کا ماضی دکھایا جاتا ہے، خاموش ماں کے اندر چھپے صدمات سامنے آتے ہیں اور بظاہر سادہ نظر آنے والی عورت کی زندگی میں ایسے راز بھی ہو سکتے ہیں جو پوری کہانی کا رخ بدل دیں۔
یہی وہ تبدیلی ہے جو ان کرداروں کو زیادہ انسانی اور ناظرین کے لیے زیادہ قابلِ فہم بنا رہی ہے۔
سینئر اداکارائیں بھی تبدیلی محسوس کر رہی ہیں
ماضی میں 30 کی دہائی کی اداکاراؤں کو بھی 50 سالہ خواتین کے کردار دے دیے جاتے تھے اور بعض اوقات وہ اپنے سے صرف چند سال چھوٹے اداکاروں کی ماں کا کردار ادا کرتی تھیں لیکن اب یہ ٹرینڈ تبدیل ہو رہا ہے۔
نادیہ افغان بھی اس تبدیلی کو محسوس کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں زیادہ تر ’ساس، نند‘ جیسے روایتی کردار پیش کیے جاتے تھے۔
وہ مذید کہتی ہیں کہ اب بڑی عمر کی خواتین کے کرداروں میں تہہ داری اور اپنی الگ کہانی شامل کی جا رہی ہے۔
ناظرین کا ذوق بدل گیا
اس تبدیلی کے پیچھے صرف لکھاریوں اور پروڈیوسرز کا رجحان نہیں بلکہ ناظرین کی بدلتی پسند بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
دنیا بھر کے ڈراموں اور فلموں تک رسائی نے پاکستانی ناظرین کو ایسی کہانیوں کا عادی بنا دیا ہے جن میں کردار سیاہ یا سفید نہیں بلکہ کئی مختلف رنگ رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے اب محض روایتی گھریلو کہانی کے بجائے مضبوط کردار اور بامقصد کہانی زیادہ توجہ حاصل کرتی ہے۔
سوشل میڈیا اس تبدیلی کی ایک دلچسپ مثال بھی پیش کرتا ہے۔ کئی مرتبہ کسی ڈرامے کی خوبصورت ہیروئن کے بجائے دادی کا ایک جملہ، ماں کا دو ٹوک جواب یا خالہ کا برجستہ مکالمہ وائرل ہو جاتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ناظرین کو عمر نہیں، اچھا کردار اور مضبوط مکالمہ متاثر کرتا ہے۔
آج کی عورت
پاکستانی معاشرہ بھی بدل رہا ہے اور اس کے ساتھ خواتین کی زندگی کے رنگ بھی وسیع ہوئے ہیں۔
آج 50 برس کی عمر میں بھی خواتین ملازمت کرتی ہیں، سفر کرتی ہیں، کاروبار کرتی ہیں اور اپنی ذاتی زندگی کے فیصلے خود کرتی ہیں۔ ان کی شناخت صرف ماں، بیوی یا ساس تک محدود نہیں۔
اسی لیے ڈراموں میں بھی ایسی خواتین کو دکھانے کی ضرورت بڑھ رہی ہے جن کی زندگی میں خاندان کے علاوہ کیریئر، دوستی، سیاست، کاروبار، ذاتی خواب اور نئے رشتے بھی اہمیت رکھتے ہوں۔
تجربہ کار اداکاراؤں کا اصل سرمایہ
1980 اور 1990 کی دہائی میں ٹیلی ویژن پر آنے والی اداکاراؤں کی ایک پوری نسل آج کئی دہائیوں کا تجربہ رکھتی ہے۔ ان کے پاس نہ صرف اداکاری کا ہنر ہے بلکہ کرداروں میں گہرائی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
ایسے فنکاروں کو یک رخے یا محض پس منظر کے کرداروں تک محدود رکھنا ڈرامہ انڈسٹری کے لیے بھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
عتیقہ اوڈھو کے مطابق موجودہ دور کے ڈراموں میں تجربہ کار فنکاروں کو زیادہ پختہ اور چیلنجنگ کردار مل رہے ہیں، جبکہ ہر کردار کو کہانی میں اپنی جگہ بنانے کا موقع بھی دیا جا رہا ہے۔
مگر منزل ابھی دور ہے
اس تمام تبدیلی کے باوجود پاکستانی ڈراموں میں بڑی عمر کی خواتین کو مرکزی اور بھرپور کردار دینے کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔
بشریٰ انصاری کے مطابق کبھی کبھار کوئی اچھا اور مختلف کردار سامنے آ جاتا ہے، لیکن مجموعی طور پر بڑی عمر کی خواتین کے لیے کردار اب بھی محدود اور ایک جیسے ہیں۔
آج بھی بیشتر کہانیاں نوجوان کرداروں کے گرد گھومتی ہیں، جبکہ بڑی عمر کی خواتین کے مسائل کو زیادہ تر شادی، وراثت اور خاندانی عزت کے گرد گھمایا جاتا ہے۔
ان کی پیشہ ورانہ زندگی، کاروبار، سیاست، دوستی، ذاتی خواب یا زندگی کے ایک نئے مرحلے میں محبت جیسے موضوعات اب بھی بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔
اب اگلا قدم کیا ہوگا؟
ناظرین نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ عمر سے نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی سے جڑتے ہیں۔ جب کسی بڑی عمر کی خاتون کو ذہانت، مزاح، جذبات اور اپنی الگ کہانی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے تو وہ کردار بھی اتنی ہی پذیرائی حاصل کرتا ہے جتنی کسی نوجوان ہیرو یا ہیروئن کو ملتی ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی ڈرامہ لکھاری اور پروڈیوسرز بڑی عمر کی خواتین کو صرف کہانی کا حصہ بنانے کے بجائے کہانی کا مرکز بنانے کا حوصلہ کریں۔
شاید اگلا بڑا ڈرامائی انقلاب یہی ہو کہ 50 سالہ عورت صرف کسی نوجوان کردار کی ماں نہ ہو، بلکہ اپنی زندگی کی کہانی کی خود مرکزی کردار ہو۔
متعلقہ خبریں
مہوش حیات بھی حبا بخاری کے ساتھ نئی ڈرامہ سریل میں پہلی بار جلوہ گر – urdureport.com
سینیر اداکار محمد احمد کے ساتھ بد تمیزی : شوبز انڈسٹری میں نئی بحث چھڑ گئی – urdureport.com


