اسلام آباد: پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری میں سینئر اور جونیئر فنکاروں کے درمیان رویوں سے متعلق ایک حالیہ تنازع نے سوشل میڈیا پر وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ سینئر اداکار محمد احمد کی جانب سے ایک نوجوان اداکار کے رویے پر اعتراض اٹھانے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فنکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ایک خصوصی مینٹورشپ پروگرام یا مشاورتی کونسل قائم کرنے کی تجویز پیش کر دی۔
عطا تارڑ کی تربیتی پروگرام کی تجویز
عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ محمد احمد جیسے سینئر فنکاروں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے اور اس سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ نئی نسل کے فنکاروں کی رہنمائی کے لیے منظم اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سینئر اداکاروں پر مشتمل ایک مینٹورشپ پروگرام یا کونسل تشکیل دی جا سکتی ہے جو نئے فنکاروں کو پیشہ ورانہ اخلاقیات، سینئرز کے احترام اور سیٹ پر مناسب رویے سے متعلق رہنمائی فراہم کرے۔ اس مقصد کے لیے جلد فنکاروں کا اجلاس بھی طلب کیا جائے گا۔
محمد احمد نے کیا کہا؟
ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سینیر اداکار محمد احمد Senior Actor Muhammad Ahmedنے بتایا کہ انہوں نے ایک نئے اداکار کو اس کی اداکاری بہتر بنانے کے لیے مشورہ دیا تھا، تاہم بعد میں اسی اداکار نے کامیابی حاصل کرنے کے بعد ان کے ساتھ غیر مناسب رویہ اختیار کیا۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایک ڈرامے کے سیٹ پر ان کے ساتھ ایسا مذاق Making Fun of a Senior Actor کیا گیا جس سے وہ خود کو غیر آرام دہ محسوس کر رہے تھے، لیکن انہوں نے اس وقت کوئی ردعمل نہیں دیا۔
وائرل ویڈیو نے تنازع بڑھا دیا
بعد ازاں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں فہد شیخ اور دیگر فنکار ڈرامے کے سیٹ پر محمد احمد کے ساتھ ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد متعدد صارفین نے اسے سینئر اداکار کی تضحیک قرار دیا جبکہ کچھ لوگوں نے اسے صرف دوستانہ ماحول کا حصہ بتایا۔اداکار فہد شیخ ایک ہیئر ڈرائیر لے کر احمد علی کے پاس آتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں ’آپ کے بال کس طرف بناؤں، ایک جانب کی مانگ نکالوں؟‘ ایک دوسرے اداکار کی آواز آتی ہے کہ ’نہیں سینٹر مانگ نکالو۔‘
فہد شیخ کی وضاحت اور معذرت

تنازع شدت اختیار کرنے کے بعد فہد شیخ نے انسٹاگرام پر وضاحتی بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو کو اصل پس منظر سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
اداکار فہد شیخ نے سینئر اداکار محمد احمد سے عوامی سطح پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وہ ویڈیو، جسے ڈرامے کے سیٹ پر مبینہ طور پر سینئر اداکار کو ہراساں کرنے یا ان کا مذاق اڑانے کے واقعے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، اصل تناظر سے ہٹ کر پھیلائی گئی، جس کے باعث عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔
فہد شیخ نے انسٹاگرام پر جاری اپنے بیان میں محمد احمد سے معافی مانگی اور اعلان کیا کہ وہ ویڈیو کا ترمیم شدہ (ایڈٹ شدہ) کلپ پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے، کیونکہ ان کے بقول اس کلپ کو جان بوجھ کر گمراہ کن تاثر دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔
انہوں نے لکھا، "ادھوری کہانیاں ہمیشہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں کیونکہ وہ صرف ایک ہی رخ پیش کرتی ہیں۔ جس واقعے کو ‘بُلنگ’ کہا جا رہا ہے، حقیقت میں ایسا ہرگز نہیں تھا۔ ہم ڈرامے کے سیٹ پر صرف ساتھی فنکار نہیں ہوتے بلکہ ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں، ایک ساتھ ہنستے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔”
محمد احمد کا مؤقف برقرار
محمد احمد نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کے نزدیک اصل مسئلہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ مجموعی رویہ ہے۔ ان کے مطابق نوجوان فنکاروں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ سینئر اداکاروں کے ساتھ گفتگو اور مذاق کی بھی حدود ہوتی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیٹ پر کسی کی اجازت کے بغیر ویڈیو بنانا اور بعد میں اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنا غیر اخلاقی عمل ہے جس سے کئی بے گناہ افراد بھی تنازع کا حصہ بن جاتے ہیں۔
مذید خبریں
مہوش حیات بھی حبا بخاری کے ساتھ نئی ڈرامہ سریل میں پہلی بار جلوہ گر – urdureport.com
2026 کی پہلی ششماہی: فلمیں ناکام، بالی وڈ مشکلات کا شکار – urdureport.com
سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل
اس تنازع کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین دو مختلف آرا میں تقسیم دکھائی دیے۔ ایک طبقے نے محمد احمد کی حمایت کرتے ہوئے سینئر فنکاروں کے احترام کو ضروری قرار دیا جبکہ دوسرے طبقے نے فہد شیخ کی معذرت کو کافی سمجھتے ہوئے معاملہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
کئی صارفین نے بغیر تصدیق مختلف نوجوان اداکاروں کے نام لینا بھی شروع کر دیے، جس پر متعدد فنکاروں نے سخت اعتراض کرتے ہوئے افواہوں سے گریز کی اپیل کی۔
تنازع کا مرکزی سوال
یہ واقعہ صرف دو فنکاروں کے درمیان اختلاف تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پاکستانی شوبز انڈسٹری میں پیشہ ورانہ اخلاقیات، سینئرز کے احترام، سیٹ پر حدود و قیود اور سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال جیسے اہم موضوعات کو دوبارہ زیر بحث لا کھڑا کیا ہے۔


