انڈیا نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ معاہدے کی معطلی کے اپنے فیصلے پر قائم رہے گا۔ انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ہفتے کے روز جاری بیان میں ثالثی عدالت کو “نام نہاد عدالت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی نے نہ تو اس عدالت کے قیام کو تسلیم کیا اور نہ ہی اس کے کسی فیصلے یا ایوارڈ کو قانونی حیثیت دی ہے۔
یہ ردِعمل نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم کورٹ آف آربٹریشن کے اُس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں عدالت نے گزشتہ برس دیے گئے اپنے ضمنی ایوارڈ کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا سندھ طاس معاہدے Indus water treaty کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔
پاکستان کا مطالبہ
دوسری جانب پاکستان pakistan نے اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھاتے ہوئے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انڈیا India کے اقدام کا نوٹس لے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی جانب سے سلامتی کونسل کے صدر کو خط ارسال کیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ معاہدے کی معطلی جنوبی ایشیا کے امن، سلامتی اور انسانی صورتحال پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہے۔
پاکستانی مشن کے مطابق ایک سال سے معاہدے کی معطلی کے باعث نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان آبی تعاون متاثر ہوا بلکہ پانی کے بہاؤ سے متعلق معلومات کے تبادلے اور تکنیکی رابطوں میں بھی خلل آیا۔
یاد رہے کہ انڈیا نے گزشتہ برس پہلگام حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا اعلان کیا تھا۔
سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والے اس معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کا کنٹرول انڈیا جبکہ مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے زیادہ تر پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔ معاہدے میں دونوں ملکوں کے واٹر کمشنرز کے درمیان مستقل رابطہ، پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار کا تبادلہ اور منصوبوں کے معائنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔
مذید پڑھئِے
صدر ٹرمپ کی ہلاکت پر 50 ملین یورو کا انعام،ایرانی پارلیمنٹ میں قانون سازی – urdureport.com
پنکی کا لاھور گھر :رمضان میں راشن تقسیم ،یونیورسٹی سٹوڈنٹس کی آمدورفت – urdureport.com
سابق انڈس واٹر کمشنر جماعت علی شاہ کے مطابق اگرچہ گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستان کو فوری طور پر کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا، تاہم مستقبل میں صورتحال تشویشناک ہو سکتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر انڈیا پانی کے بہاؤ میں ردوبدل یا ذخیرہ اندوزی کے منصوبے شروع کرتا ہے تو آئندہ برسوں میں پاکستان کو زرعی اور آبی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال پاکستان کو فوری آبی بحران کا سامنا نہیں، تاہم سندھ طاس معاہدے کی مسلسل معطلی خطے میں اعتماد کے فقدان اور مستقبل کے ممکنہ تنازعات کے خطرات کو بڑھا رہی ہے۔


