ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے سامنے رکھی گئی شرائط کا ذکر کیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق واشنگٹن نے تہران کو مذاکرات کے لیے چند سخت شرائط پیش کی ہیں، جبکہ ایران نے بھی اپنے مطالبات واضح کر دیے ہیں۔
امریکہ کی شرائط
فارس نیوز ایجنسی، جسے ایرانی فوجی و سکیورٹی حلقوں کے قریب سمجھا جاتا ہے، کا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے ایران سے کہا ہے کہ اسے کسی قسم کا جنگی معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس موجود 400 کلوگرام افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے، صرف ایک جوہری تنصیب برقرار رکھنے اور منجمد ایرانی اثاثوں کا محدود حصہ جاری کرنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مذاکرات کو خطے میں تمام محاذوں پر جنگ بندی سے مشروط کیا گیا ہے۔
ایران کی شرائط
دوسری جانب تہران نے بھی اپنی شرائط پیش کرتے ہوئے لبنان سمیت خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے، ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے اور بیرونِ ملک منجمد اثاثے واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی مؤقف میں جنگی نقصانات کے ازالے اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کی شرط بھی شامل بتائی گئی ہے۔
مذید پڑھئیے
امریکہ اور اسرا*ئیل کی اگلے ہفتے پھر ایران پر حملوں کی تیاری مکمل ،رپورٹ – urdureport.com
صدر ٹرمپ کی ہلاکت پر 50 ملین یورو کا انعام،ایرانی پارلیمنٹ میں قانون سازی – urdureport.com
BBC Persian کے مطابق بعض ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی ثالثی کے ذریعے موصول ہونے والی امریکی تجاویز پر ایران نے گزشتہ شب اپنا جواب پاکستانی حکام تک پہنچا دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب Mohsin Naqvi نے حال ہی میں تہران کا مختصر دورہ کیا، جس کے بعد سفارتی رابطوں میں تیزی سے متعلق قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔


