لاہور میں پی ٹی آئی کارکن اشتیاق احمد کے اہل خانہ سے تعزیت، پولیس سے تلخ مکالمہ اور کارکنوں سے خطاب کے دوران سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریوں کے لیے پنجاب میں سیاسی سرگرمیاں تیز کرنے کا اعلان کیا۔
وزیر اعلیٰ کے پی کے لاھور کی سڑکوں پر نکل گئے جہان انہوں نے پی ٹی آئی کیس سڑیٹ موومنٹ کا آغاز کیا اور اس دوران پولیس سے ان کی تلخ کلامی ہو ان کو پولیس کی تحویل میں لیا گیا اور پولیس وین مین ان کو لکشمی چوک پر چھوڑ دیا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی 14 ستمبر 2026 کو لاہور میں موجود رہے، جہاں ان کی سرگرمیاں پی ٹی آئی کے کارکن اشتیاق احمد کے اہل خانہ سے تعزیت، پنجاب پولیس سے تلخ مکالمے، کارکنوں سے خطاب اور پنجاب اسٹریٹ موومنٹ کے آئندہ لائحہ عمل کے اعلان کے گرد مرکوز رہیں۔
سہیل آفریدی کے دورے کے دوران سیاسی کشیدگی برقرار رہی، جبکہ پی ٹی آئی نے پنجاب میں کارکنوں کے خلاف مبینہ کریک ڈاؤن پر احتجاج کیا۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
سہیل آفریدی کو لکشمی چوک پولیس وین سے اتار دیا گیا pic.twitter.com/feCxuEYuWO
— Urdu Report (@UrduReportpk) September 14, 2026
لاہور آمد سے قبل دورے کے منصوبے میں تبدیلی
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی پروگرام کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے پنجاب کے مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے لاہور پہنچنا تھا۔ اس منصوبے میں داؤد خیل، میانوالی، سرگودھا، چنیوٹ، فیصل آباد اور شیخوپورہ سمیت دیگر مقامات شامل تھے۔
تاہم، لاہور میں پی ٹی آئی کے کارکن اشتیاق احمد کی وفات کے بعد سہیل آفریدی نے اپنے دورے کا منصوبہ تبدیل کیا اور سب سے پہلے ان کے گھر جا کر اہل خانہ سے تعزیت کرنے کا اعلان کیا۔
پی ٹی آئی کے مطابق اشتیاق احمد عید میلاد النبی ﷺ کی تیاریوں کے دوران پولیس کی مبینہ کارروائی میں گرم تیل کی کڑاہی میں گرنے سے جھلس گئے تھے اور بعدازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ سہیل آفریدی نے اس واقعے کو مبینہ پولیس کریک ڈاؤن قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔
وزیر اعلیٰ کے پی کے کو پنجاب پولیس نے لوھور مِن اپنی تحویل میں لے لیا۔ pic.twitter.com/K7tw5m5mKI
— Urdu Report (@UrduReportpk) September 14, 2026
اشتیاق احمد کے گھر تعزیت
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا لاہور میں اشتیاق احمد کی رہائش گاہ پر پہنچے، جہاں انہوں نے اہل خانہ سے تعزیت کی اور فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے اہل خانہ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔ گھر کے باہر کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔
پنجاب پولیس سے تلخ مکالمہ
اشتیاق احمد کے گھر کے باہر پولیس کی بھاری نفری اور سیکیورٹی انتظامات پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے سخت ردعمل دیا۔
سہیل آفریدی نے پولیس افسران سے کہا کہ وہ لاہور میں جلسہ کرنے نہیں آئے بلکہ کارکن کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے پہنچے ہیں۔ انہوں نے پولیس کی جانب سے سیکیورٹی فراہم کرنے سے بھی انکار کیا۔
اس موقع پر انہوں نے کہا:
”اللہ میری حفاظت کرتا ہے، اگر میری جان تمہارے ہاتھ میں ہوتی تو میں کل نہیں، آج ہی مر جاتا۔“
وزیراعلیٰ نے پولیس اہلکاروں کو تھانوں میں واپس جانے کا کہا اور پنجاب کے عوام کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا۔
بعدازاں سہیل آفریدی نے لاہور کے مختلف مقامات پر کارکنوں سے خطاب کیا اور پنجاب حکومت پر تنقید کی۔
پنجاب اسٹریٹ موومنٹ کے لائحہ عمل کا اعلان
سہیل آفریدی نے لاہور میں پنجاب اسٹریٹ موومنٹ کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا کہا۔ یہ سرگرمیاں پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں اعلان کردہ لانگ مارچ اور احتجاج کی تیاریوں کا حصہ ہیں۔
پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت نے اس سے قبل بھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو صوبے کا دورہ کرنے اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی دعوت دی تھی۔ پارٹی کے مطابق پنجاب میں کارکنوں کے خلاف مبینہ کارروائیوں کے باعث احتجاجی سرگرمیوں کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔
کارکنوں کی گرفتاریوں پر احتجاج
لاہور میں سیاسی سرگرمیوں کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں کی مبینہ گرفتاریوں کے خلاف احتجاج بھی سامنے آیا۔ بعض رپورٹس اور ویڈیوز میں سہیل آفریدی کو پولیس وین میں بیٹھتے ہوئے دکھایا گیا۔
تاہم، دستیاب اطلاعات میں اس واقعے کی نوعیت کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق وہ احتجاجاً پولیس وین میں بیٹھے، جبکہ دیگر اطلاعات میں کہا گیا کہ انہیں بعدازاں لکشمی چوک کے قریب چھوڑ دیا گیا۔
پنجاب حکومت کا ردعمل
پنجاب حکومت کے نمائندوں، جن میں وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری بھی شامل ہیں، نے پی ٹی آئی کی جانب سے اشتیاق احمد کی موت پر کیے جانے والے احتجاج کو سیاسی اسٹنٹ قرار دیا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ کارکن کی موت حادثے کا نتیجہ تھی اور پی ٹی آئی لاشوں پر سیاست کرنے کی اپنی پرانی روش پر عمل پیرا ہے۔
پنجاب میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات
سہیل آفریدی کے دورے کے دوران پنجاب میں سیکیورٹی انتظامات سخت رہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق پنجاب میں احتجاجی اجتماعات کے حوالے سے پابندیاں بھی نافذ تھیں، جبکہ 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل سیاسی سرگرمیوں میں اضافے کے پیش نظر انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کیے۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وہ پرامن اور آئینی احتجاج سے دستبردار نہیں ہوگی، جبکہ حکومت کی جانب سے احتجاجی سرگرمیوں اور امن و امان کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
نوٹ: اشتیاق احمد کی موت کے حالات اور پولیس کارروائی سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق اس رپورٹ میں دستیاب نہیں۔


