مکہ مکرمہ میں جمعرات کے روز ایک منفرد فلکیاتی منظر دیکھنے میں آیا جب سورج تقریباً خانہ کعبہ کے عین اوپر Sun directly above the Kaaba آ گیا۔ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 18 منٹ پر یہ منظر اس وقت نمایاں ہوا جب اذانِ ظہر دی جا رہی تھی، جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو قبلہ رخ کی درست سمت جانچنے کا قدرتی موقع میسر آیا۔
جدہ آسٹرونومی سوسائٹی کے سربراہ ماجد ابو زہرہ کے مطابق اس موقع پر سورج کی بلندی 89.94 ڈگری ریکارڈ کی گئی، یعنی سورج مکمل عمودی زاویے سے محض 0.06 ڈگری کے فرق پر تھا۔ اس کیفیت کے باعث مکہ مکرمہ میں عمودی اشیا، خصوصاً خانہ کعبہ، کا سایہ تقریباً ختم ہو گیا۔
ماہرین فلکیات کی رائے
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ نایاب منظر ہر سال دو مرتبہ سامنے آتا ہے، جب سورج اپنی ظاہری گردش کے دوران مکہ مکرمہ کے عرض البلد کے عین اوپر پہنچتا ہے۔ ماضی میں مسلمان ماہرین فلکیات اسی طریقے سے دنیا کے مختلف حصوں میں مساجد اور عبادت گاہوں کا درست قبلہ متعین کرتے تھے۔
مذید پڑھئِے
کعبہ کی خلا سے لی گئی تصویر وائرل جہاں روشن نقطے کی مانند دکھائی دیتا ہے – urdureport.com
انسان مریخ پر کہاں قدم رکھے گا جگہ کا تعین کر لیا گیا – urdureport.com
رپورٹس کے مطابق رواں برس اس فلکیاتی مظہر کی ایک خاص بات یہ بھی رہی کہ یہ عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز پیش آیا، جو قمری اور شمسی کیلنڈرز کے فرق کی وجہ سے تقریباً ہر 33 برس بعد ممکن ہوتا ہے۔
سعودی محکمہ موسمیات نے وضاحت کی ہے کہ سورج کے اس عمودی ظہور کو حالیہ شدید گرمی کی لہروں سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ یہ ایک معمول کا فلکیاتی عمل ہے


