تحریر
طارق اقبال چوہدری
پاکستان میں ایک بار پھر آئین میں تبدیلی کے لیے پس پردہ مشاورت جاری ہے اور ممکنہ طور پر عید الاضحیٰ بعد 28ویں آئینی ترمیم پر بل پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں مگر اس مجوزہ ترمیم سے سب سے زیادہ بے چینی حکومتی اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی میں پائی جاتی ہے جو کہ خود کو 18ویں ترمیم کا کریڈت لیتی رہی آخر نئی آنے والی ترمیم میں ایسا کیا جو کہ اب اپوزیشن نہیں بلکہ حکومتی اتحادی کے لیے دردسر بننے جا رہا ہے ؟
ترمیم کے بارے میں قیاس آرائیاں کیوں بڑھیں؟
حالیہ دنوں میں حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان ملاقاتوں، پارلیمانی مشاورت اور بعض سرکاری شخصیات کے بیانات کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوا کہ حکومت ایک نئی آئینی ترمیم لانے پر غور کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور رانا ثناء اللہ اس سلسلے میں سیاسی رابطوں میں متحرک ہیں۔
سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترمیم میں وفاق اور صوبوں کے اختیارات، این ایف سی ایوارڈ، انتظامی ڈھانچے اور بعض آئینی اداروں کے اختیارات سے متعلق نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی حتمی متن جاری نہیں کیا گیا۔ایک تجویز یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ اپوزیشن خاص طور پر پی ٹی آئی کی مقبولیت اور ووٹ بینک میں کمی لانے کے لیے ووٹر کی عمر 18سال سے بڑا کر 25 سال کر دی جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی ترمیم میں اٹھارویں آئینی ترمیم کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے جس کی پی پی پی خالق ہے اور نئے ترمیم کے ذریعے ملک میں نیا صدارتی ڈھانچہ متعارف کرایا جا سکتا ہے جس کے مطابق پھر موجودہ صدر کو جانا ہو گا۔
پیپلز پارٹی کا محتاط مؤقف
حکومتی اتحاد کی اہم جماعت Pakistan Peoples Party نے واضح کیا ہے کہ اس سے ابھی تک باضابطہ طور پر کسی نئی آئینی ترمیم پر رابطہ نہیں کیا گیا۔ پارٹی چیئرمین Bilawal Bhutto Zardari نے کہا کہ کسی بھی آئینی ترمیم کی منظوری پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔
بلاول بھٹو نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ان کی جماعت صوبائی خودمختاری اور 18ویں ترمیم کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ حکومت ابھی تک ترمیم کے نکات کو حتمی شکل نہیں دے سکی۔
کیا 18ویں ترمیم رول بیک ہوسکتی ہے؟
سب سے زیادہ بحث اس پہلو پر ہو رہی ہے کہ آیا 28ویں آئینی ترمیم 28th constitutional amendment کے ذریعے 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے اختیارات واپس وفاق کو دیے جا سکتے ہیں۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ صحت، تعلیم، آبادی، زراعت اور صنعت جیسے شعبوں کو دوبارہ وفاقی کنٹرول میں لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
مذید پڑھئِں
28 ویں آئینی ترمیم، کیا کروڑوں نوجوانوں کو ووٹ کے حق سے محروم کر دے گی ؟ – urdureport.com
27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہیں،جو قوتیں لائیں ان کی عزت میں اضافہ نہیں ہوا – urdureport.com
تاہم وفاقی وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 28ویں ترمیم کو 18ویں ترمیم کے خاتمے سے جوڑنا “غلط تاثر” ہے۔
نئی صوبائی بحث بھی زیر گردش
کچھ سیاسی اور آئینی حلقوں میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث بھی دوبارہ سامنے آئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب کی آبادی اور سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے چھوٹے صوبوں میں احساسِ محرومی بڑھ رہا ہے، اس لیے انتظامی بہتری کے لیے نئے صوبوں کی تجاویز زیر غور آسکتی ہیں۔ تاہم حکومت نے اس بارے میں کوئی باضابطہ مؤقف نہیں دیا۔
26ویں اور 27ویں ترامیم کا پس منظر
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران اہم آئینی تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔ 26ویں ترمیم 2024 میں عدالتی اختیارات اور چیف جسٹس کی مدت سے متعلق منظور ہوئی تھی، جبکہ 27ویں ترمیم 2025 میں وفاقی آئینی عدالت، عدالتی ڈھانچے اور وفاقی اختیارات کے حوالے سے متعارف کرائی گئی۔
اسی پس منظر میں ناقدین کو خدشہ ہے کہ 28ویں ترمیم بھی طاقت کے توازن، صوبائی خودمختاری اور آئینی اداروں کے اختیارات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔


