مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی بارَے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ ایران تنازع کے دوران سعودی عرب Saudi Arabia اور متحدہ عرب امارات United Arab Emirates نے خفیہ طور پر ایران کے اندر فوجی اہداف پر حملے کیے۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ دونوں خلیجی ممالک نے براہِ راست ایرانی سرزمین پر کارروائی کی ہو۔
خفیہ حملوں کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق مغربی اور امریکی انٹیلی جنس حکام نے انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک اور امریکی مفادات پر ڈرون و میزائل حملوں کے بعد سعودی عرب اور یو اے ای نے محدود مگر انتہائی حساس جوابی کارروائیاں کیں۔ مبینہ طور پر ان حملوں میں ایران کے ڈرون لانچنگ مراکز، میزائل تنصیبات اور بعض فوجی کمانڈ پوائنٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کو انتہائی خفیہ رکھا گیا تاکہ خطے میں مکمل جنگ کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ تاہم مغربی سفارتی حلقوں میں اس خبر نے شدید تشویش پیدا کردی ہے کیونکہ یہ خلیجی طاقتوں کے روایتی دفاعی کردار سے آگے بڑھنے کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
پس منظر: ایران اور خلیجی ممالک میں بڑھتی کشیدگی
گزشتہ کئی برسوں سے ایران اور خلیجی ریاستوں کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ یمن جنگ، شام تنازع، آبنائے ہرمز میں بحری کشیدگی اور خطے میں پراکسی گروپوں کی سرگرمیوں نے پہلے ہی ماحول کو غیر مستحکم کر رکھا تھا۔
مذید پڑھئِں
ایران کی امریکہ کو ایٹم بم تیاری کے لیے یورینیم افزودگی کی دھمکی – urdureport.com
امریکا ایران مذاکرات: ٹرمپ ایرانی جواب کے منتظر، مذاکرات کے نئے دور کا امکان – urdureport.com
ایران امریکا کشیدگی، امارات سے سینکڑوں پاکستانی واپس – urdureport.com
حالیہ بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایران پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے خطے میں امریکی اور خلیجی تنصیبات کے خلاف ڈرون حملوں کی حمایت کی۔ اس کے بعد اسر*ائیل، امریکہ اور بعض عرب اتحادیوں کے درمیان خفیہ سکیورٹی تعاون میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اسرا*ئیل کا ممکنہ کردار
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ Be*njam*in Ne*tanya*hu نے جنگ کے دوران خفیہ طور پر یو اے ای کا دورہ کیا تھا۔ برطانوی اخبار The Guardian کے مطابق اس دورے میں ایران کے خلاف ممکنہ علاقائی حکمتِ عملی اور انٹیلی جنس تعاون پر بات ہوئی۔
اگرچہ ا*سرا*ئیل اور اماراتی حکام نے مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ابراہام معاہدوں کے بعد ان ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں واضح اضافہ ہوا ہے۔
ایران کا سخت ردِعمل
ایران نے ان خبروں پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی حکام نے خلیجی ممالک پر “غداری” اور “خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنے” کا الزام لگایا۔ برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران ایرانی نمائندوں نے خاص طور پر یو اے ای کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بعض عرب ممالک اسر*ائیل اور مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اگر کسی ملک نے ایرانی سرزمین پر حملہ کیا تو تہران “براہِ راست جواب” دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کے لیے خطرہ
ماہرین کے مطابق اس کشیدگی کا سب سے خطرناک پہلو آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ایران ماضی میں کئی بار دھمکی دے چکا ہے کہ اگر اس پر دباؤ بڑھایا گیا تو وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محدود کرسکتا ہے۔
توانائی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان براہِ راست تصادم بڑھتا ہے تو عالمی تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جاسکتی ہیں
امریکہ اور مغربی دنیا کی تشویش
United States اور یورپی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی حکام بظاہر خطے میں اپنے اتحادیوں کے دفاع کی حمایت کر رہے ہیں، تاہم واشنگٹن ایک کھلی علاقائی جنگ سے بھی بچنا چاہتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خفیہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن مزید تبدیل ہوسکتا ہے، اور ایران، اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان ایک نیا سکیورٹی بلاک ابھر سکتا ہے۔
خطے میں نئی صف بندیاں
حالیہ انکشافات سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں روایتی اتحاد تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایران اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتے اس بحران کی سمت متعین کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو پورا خطہ ایک نئے بڑے تنازع کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔


