امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے باوجود 8 اپریل 2026 کو مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اس رائی ل نے لبنان پر شدید فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ حملے جنگ کے آغاز سے اب تک کے سب سے بڑے اور تباہ کن حملوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث خطے میں ایک نئی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اس رائی لی فضائیہ نے لبنان کے مختلف علاقوں میں تقریباً 100 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں بی روت کے جنوبی مضافات (ضاحیہ)، صور، نبطیہ، صیدا اور وادی بقاع سمیت جنوبی اور مشرقی لبنان کے متعدد علاقے شامل ہیں۔
حملوں کے بعد لبنان کی صورتحال
لبنانی وزارت صحت اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں درجنوں افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں، جبکہ بعض رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 89 سے تجاوز کرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ہسپتالوں میں شدید دباؤ ہے اور خون کی قلت ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
اس رائی لی وزیراعظم ب ین جمن نییتن یاہہو کے دفتر کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے نہ روکے گئے تو وہ بھرپور جواب دے گی۔
پس منظر کی کاروائیاں
پس منظر کے طور پر یاد رہے کہ نومبر 2024 میں اس رائی ل اور ح زب اللہ کے درمیان امریکی ثالثی سے جنگ بندی طے پائی تھی، تاہم لبنانی اور اقوام متحدہ کے مطابق اس کی مسلسل خلاف ورزیاں ہوتی رہی ہیں۔ مارچ 2026 میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب ح زب اللہ نے ایران کی قیادت کے خلاف کارروائی کے ردعمل میں اس رائی ل پر راکٹ حملے کیے۔
حالیہ پیش رفت میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جس میں پاکستان نے سفارتی کردار ادا کیا۔
شہباز شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ اس جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، تاہم اس رائی ل نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
علاقائی سطح پر ردعمل بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ حزب اللہ نے جنگ بندی کو اس رائی لی حملوں کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے، جبکہ ایران نے عندیہ دیا ہے کہ لبنان پر حملے جاری رہے تو مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
لبنان کی پارلیمنٹ کے سپیکر نے پاکستان سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے، جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں لبنان شدید انسانی بحران کا شکار ہے، جہاں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور بنیادی سہولیات تک رسائی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو یہ تنازعہ پورے خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


