امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کے منتظر ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے واضح ہدایات دی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سنجیدگی اور نیک نیتی سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو امریکہ بھی مثبت انداز میں آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔
ان مذاکرات میں امریکی وفد کی نمائندگی جے ڈی وینس JDVance کے ساتھ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے، جبکہ ایران کی طرف سے عباس عراقچی اور باقر قالیباف شریک ہوں گے۔
جبکہ ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا مذاکراتی وفد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پہنچ گیا۔
ایرانی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وفد میں ایران کے وزیر خارجہ، دفاعی کونسل کے سیکریٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور پارلیمنٹ کے متعدد ارکان شامل ہیں
اسلام آباد میں انتظامات
اسلام آباد میں ان اہم مذاکرات کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور صرف متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے محسن نقوی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں سیکیورٹی پلان اور دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیر داخلہ نے ہدایت دی کہ غیر ملکی مہمانوں کی سیکیورٹی اور میزبانی کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ جنگ بندی کے بعد امریکہ اور ایران کے مذاکرات کا پاکستان میں انعقاد ایک اعزاز ہے۔
دوسری جانب دفتر خارجہ پاکستان نے ویزا فری سفر سے متعلق وضاحت جاری کی ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ سہولت صرف ان ممالک کے وفود اور صحافیوں کے لیے فراہم کی گئی ہے جو ان مذاکرات میں شریک ہیں، یعنی امریکہ اور ایران کے نمائندے اور متعلقہ میڈیا۔
مزید یہ کہ یہ رعایت صرف مذاکرات کی مدت تک محدود ہوگی اور اس کا اطلاق کسی تیسرے ملک کے شہریوں پر نہیں ہوگ
یہ بھی پڑھئِے


