جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قائم عالمی معاہدہ جوہری عدم پھیلاؤ معاہدہ (NPT) کا پانچ سالہ جائزہ اجلاس نیویارک میں شروع ہو گیا ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی نازک مرحلے میں ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
ایران کے یورینیم ذخائر مرکزی موضوع
اجلاس میں سب سے اہم بحث ایران کے افزودہ یورینیم uranium enrichment کے ذخیرے پر ہوگی، جس میں اس کی مقدار، مقام اور مستقبل کے بارے میں فیصلے شامل ہیں۔ عمان کے وزیر خارجہ کے مطابق ایران نے اپنے ذخائر کو کم کرنے اور ان کی مکمل نگرانی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے تحت کرانے پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم اس کے فوراً بعد فوجی کشیدگی بڑھ گئی۔

معاہدے کی بنیاد اور چیلنجز
یہ این پی ٹی Non-Proliferation of Nuclear Weapons (NPT) treaty معاہدہ اس اصول پر قائم ہے کہ غیر جوہری ممالک ہتھیار حاصل نہیں کریں گے جبکہ جوہری طاقتیں اپنے ہتھیار کم کریں گی۔ مگر ماہرین کے مطابق یہ توازن اب بگڑ چکا ہے کیونکہ بڑی طاقتیں اپنے ہتھیار جدید بنا رہی ہیں جبکہ تخفیف کے وعدے پورے نہیں ہو رہے۔
جوہری طاقتیں اور عدم توازن
امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کو باضابطہ جوہری طاقتیں تسلیم کیا گیا ہے، جبکہ دیگر ممالک کو اس کی اجازت نہیں۔ بھارت، پاکستان، اسرا*ئیل اور جنوبی سوڈان اس معاہدے کا حصہ نہیں، جبکہ شمالی کوریا اس سے نکل چکا ہے، جس سے عالمی نظام میں عدم توازن پیدا ہو گیا ہے۔
ایران کا مؤقف اور تنازع
ایران، جو 1974 سے اس معاہدے کا حصہ ہے، اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتا ہے اور یورینیم افزودگی کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ 2015 کا معاہدہ JCPOA اسی بنیاد پر ہوا تھا، مگر 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس سے دستبرداری کے بعد کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔
مستقبل غیر یقینی
ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں کسی بڑے اتفاق رائے کا امکان کم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر دوہرے معیار اور سیاسی مفادات اس معاہدے کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس کا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے۔
این پی ٹی NPT معاہدہ کیا ہے ؟
ایک عالمی معاہدہ ہے جس کا مقصد دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا، موجودہ ہتھیاروں میں کمی لانا اور پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
یہ معاہدہ 1968 میں پیش کیا گیا اور 1970 میں نافذ ہوا۔ اس کے تحت جو ممالک جوہری ہتھیار نہیں رکھتے وہ انہیں حاصل نہ کرنے کا وعدہ کرتے ہیں، جبکہ جو ممالک پہلے سے جوہری طاقت ہیں وہ اپنے ہتھیار کم کرنے کا عہد کرتے ہیں۔
این پی ٹی تین بنیادی اصولوں پر قائم ہے:
- جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنا
- جوہری تخفیف (ہتھیار کم کرنا)
- پرامن جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال
آج یہ دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ کنٹرول معاہدوں میں سے ایک ہے، جس کے زیادہ تر ممالک رکن ہیں۔
پر امن مقاصد کے لیے یورنیم کتنے فیصد افزودہ کی جا سکتی ہے ؟
پرامن مقاصد (جیسے بجلی بنانے والے نیوکلیئر پاور پلانٹس) کے لیے یورینیم کی افزودگی عام طور پر 3% سے 5% تک رکھی جاتی ہے، جسے "لو اینرچڈ یورینیم” کہا جاتا ہے۔
تحقیقی ری ایکٹرز یا خاص سائنسی مقاصد کے لیے بعض اوقات یہ سطح 20% تک جا سکتی ہے، لیکن اس سے زیادہ افزودگی حساس سمجھی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ:
- تقریباً 90% یا اس سے زیادہ افزودگی کو ہتھیاروں کے درجے (weapons-grade) کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
- عالمی نگرانی ادارہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ افزودگی صرف پرامن مقاصد کے لیے ہو۔
اس لیے عام طور پر پرامن استعمال کے لیے 3–5% کو محفوظ اور معیاری سطح سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


