ایران، امریکا اور اسرا*ئیل کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد خلیجی ممالک میں سکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا عمل تیز ہو گیا ہے اور اب متعدد افراد کو حراست، مقدمات اور ملک بدری جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
حکام کی جانب سے جاری نئے احکامات کے تحت نہ صرف موجودہ قوانین پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے بلکہ بعض معاملات میں اپیل کے قانونی راستے بھی محدود کر دیے گئے ہیں۔ Bahrain میں حالیہ فیصلے کے تحت 69 افراد کی شہریت ختم کر دی گئی، جن پر الزام ہے کہ وہ ایران کے اقدامات کی حمایت یا بیرونی عناصر سے روابط میں ملوث تھے۔
سوشل میڈیا پوسٹ پر سزائیں

اسی طرح Kuwait میں بھی سوشل میڈیا سے متعلق مقدمات میں بڑی تعداد میں افراد کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔ سکیورٹی عدالت نے درجنوں کیسز کا فیصلہ سناتے ہوئے بعض ملزمان کو قید کی سزائیں دیں جبکہ کئی افراد کو بری بھی کیا گیا۔ بری ہونے والوں میں کویتی نژاد امریکی صحافی Ahmed Shihab-Eldin بھی شامل ہیں، جنہیں حراست کے بعد تمام الزامات سے آزاد کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ الزامات میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا، جھوٹی معلومات پھیلانا اور ریاستی مفادات کے خلاف سرگرمیاں شامل ہیں۔ بعض خلیجی ممالک نے جنگ کے آغاز پر ہی عوام کو خبردار کیا تھا کہ حساس تنصیبات یا حملوں سے متعلق ویڈیوز اور معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں۔
اظہار رائے پر قدغن
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں، جن میں Amnesty International اور Human Rights Watch شامل ہیں، ان اقدامات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ان پالیسیوں سے آزادی اظہار متاثر ہو رہی ہے اور بعض افراد کو منصفانہ قانونی عمل تک رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف مقامات پر چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں جہاں شہریوں کے موبائل فونز کی جانچ بھی کی جا رہی ہے۔ بعض خاندانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گرفتار افراد کو طویل حراست، شہریت کی منسوخی یا ملک بدری جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکام کا مؤقف ہے کہ یہ تمام اقدامات صرف ان افراد کے خلاف کیے جا رہے ہیں جو قانون کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے ہیں، اور ان کا مقصد خطے میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔ تاہم ناقدین اسے ایک وسیع تر کریک ڈاؤن قرار دے رہے ہیں جو جنگی صورتحال کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


