ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ مذاکرات کا دوسرا دور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے کیونکہ تہران نے تاحال اس میں شرکت پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ اس ہچکچاہٹ کے پیچھے کئی اہم وجوہات کارفرما ہیں، جنہوں نے سفارتی عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
سب سے بڑی وجہ امریکہ کی جانب سے جاری بحری ناکہ بندی ہے، جسے ایران جنگی اقدام قرار دیتا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق جنگ بندی کے باوجود ناکہ بندی برقرار رکھنا اعتماد سازی کے عمل کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اسی تناظر میں خلیج عمان میں ایرانی جہاز پر امریکی کارروائی نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ یا دھمکی کے تحت مذاکرات نہیں کرے گی۔ ایران کے سفیر اور دیگر اعلیٰ حکام واضح کر چکے ہیں کہ “دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات” قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کا سخت لہجہ اور متضاد بیانات بھی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
کیا شرائط ہیں؟
مزید برآں ایران کی کچھ شرائط بھی ہیں، جن میں اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی، اور خطے میں کشیدگی میں کمی شامل ہیں۔ اگرچہ لبنان میں جنگ بندی ایک پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، لیکن دیگر مطالبات تاحال پورے نہیں ہوئے۔
داخلی سیاست بھی ایران کے رویے پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایرانی قیادت نہیں چاہتی کہ وہ عالمی سطح پر “کمزور” یا “مذاکرات کے لیے بے تاب” نظر آئے، اس لیے وہ سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے تاکہ اندرونِ ملک اپنی پوزیشن مضبوط رکھ سکے۔
ادھر امریکہ کے صدر Donald Trump کے بیانات اور اقدامات نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنایا ہے، خاص طور پر جب انہوں نے مذاکرات کے دوران ہی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
مجموعی طور پر، ایران کی مذاکرات سے گریز کی وجوہات میں عدم اعتماد، فوجی دباؤ، نامکمل شرائط، اور داخلی سیاسی عوامل شامل ہیں۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پسِ پردہ رابطے جاری ہیں اور امکان موجود ہے کہ ایران آخری لمحے میں مذاکرات میں شامل ہو جائے۔
یوں صورتحال نازک ضرور ہے، مگر سفارت کاری کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھئِے



