ہانگ کانگ — چین میں ایک صارف کی جانب سے ناقص کیک کی شکایت نے ایک بڑے اسکینڈل کا پردہ فاش کر دیا، جس میں ہزاروں “گھوسٹ” (فرضی) فوڈ وینڈرز سامنے آئے۔ اس انکشاف کے بعد ملک کی بڑی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے اور سخت قیمتوں کی مسابقت کے نقصانات بھی نمایاں ہوئے۔
یہ معاملہ گزشتہ موسمِ گرما میں اس وقت شروع ہوا جب بیجنگ کے ایک شہری، لیو نامی شخص، نے آن لائن آرڈر کیا گیا سالگرہ کا کیک ناقص ہونے پر شکایت درج کروائی۔ کیک پر لگی سجاوٹی پھول کھانے کے قابل نہیں تھا، جس پر صارف نے حکام سے رجوع کیا۔
گھوسٹ کیک پر تحقیقات
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ایک جعلی بیکری چین تقریباً 400 برانچز کے دعوے کے ساتھ کام کر رہی تھی، مگر اس کے پاس جعلی لائسنس تھے اور کوئی حقیقی دکان موجود نہیں تھی۔
اس واقعے کے بعد ملک بھر میں تحقیقات کا آغاز ہوا، جس میں ایک خفیہ سپلائی چین کا پتہ چلا۔ اس نظام میں ایک تاجر صارف سے آرڈر لے کر اسے کسی دوسرے پلیٹ فارم پر کم قیمت پر نیلام کر دیتا تھا، جہاں سب سے کم بولی دینے والا آرڈر مکمل کرتا تھا۔ اس عمل میں معیار اور خوراک کی حفاظت دونوں متاثر ہوتے تھے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، مجموعی طور پر 67 ہزار سے زائد ایسے “گھوسٹ” وینڈرز سامنے آئے، جنہوں نے 36 لاکھ سے زیادہ کیک فروخت کیے تھے۔
چین کے مارکیٹ ریگولیٹر ادارے نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ بڑی ڈیلیوری کمپنیوں نے صارفین کے تحفظ اور وینڈرز کی تصدیق میں کوتاہی کی۔ ان کمپنیوں پر مجموعی طور پر 3.6 ارب یوآن (تقریباً 52 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) کا ریکارڈ جرمانہ عائد کیا گیا، جو 2015 کے بعد سب سے بڑا جرمانہ ہے۔
یہ 10 ماہ پر محیط تحقیقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ شدید قیمتوں کی جنگ، جسے چین میں “نیجوان” کہا جاتا ہے، کاروباروں کو نقصان دہ حد تک مسابقت میں دھکیل رہی ہے، جہاں کم قیمت کے بدلے معیار قربان کیا جا رہا ہے۔
ایک مثال میں بتایا گیا کہ ایک صارف نے 252 یوآن میں کیک خریدا، مگر اس آرڈر کو بعد میں 100، 90 اور 80 یوآن کی بولیوں میں بیچا گیا، جس میں سب سے کم بولی دینے والا منتخب ہوا۔ یوں اصل بنانے والے کو صرف 30 فیصد رقم ملی جبکہ باقی منافع درمیانی پلیٹ فارم اور کمپنی نے حاصل کیا۔
حکام کے مطابق یہ کوئی معمولی خلاف ورزی نہیں بلکہ ایک منظم اور بڑے پیمانے پر ہونے والا غیر قانونی کاروبار ہے۔
کمپنیوں کی روکاوٹ
تحقیقات کے دوران بعض کمپنیوں کی جانب سے مزاحمت بھی سامنے آئی۔ ایک واقعے میں ایک ملازم نے “خاموش رہیں” کا نوٹ لکھ کر ساتھی کو دیا اور پکڑے جانے پر کاغذ نگل لیا۔ ایک اور موقع پر سکیورٹی اہلکاروں نے حکام کو دھکے دیے، جبکہ ایک ایگزیکٹو نے تفتیش کے دوران اچانک بیہوش ہونے کا ڈرامہ کیا۔
ریگولیٹر نے خاص طور پر ایک بڑی کمپنی پر 1.5 ارب یوآن جرمانہ عائد کیا، جس پر معلومات فراہم نہ کرنے اور تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام تھا۔
متعلقہ کمپنیوں نے جرمانے قبول کرتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے نظام کو بہتر بنائیں گی اور ایسے غیر قانونی طریقوں کا خاتمہ کریں گی
یہ بھی پڑھئِے


