اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری کی زیر صدارت اہم اجلاس میں پاسپورٹ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نارمل پاسپورٹ normal passport delivery period کے اجرا کا دورانیہ کم کر کے 21 دن سے 14 دن کر دیا جائے گا، تاکہ شہریوں کو کم وقت میں دستاویز کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے سروس ڈیلیوری میں واضح بہتری آئے گی اور تاخیر کے مسائل کم ہوں گے۔
دفاتر میں کیش لیس نظام متعارف
مزید برآں، پاسپورٹ دفاتر میں شفافیت بڑھانے کے لیے مکمل کیش cash less system لیس نظام نافذ کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے ہدایت دی کہ آئندہ 15 دنوں کے اندر تمام دفاتر میں ڈیجیٹل ادائیگی digital payment کا نظام فعال بنایا جائے، تاکہ کرپشن اور ایجنٹ کلچر agent cultureکا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پاسپورٹ کی ہوم ڈیلیوری سروس کو مزید مؤثر بنایا جائے گا، تاکہ شہریوں کو دفاتر کے غیر ضروری چکر نہ لگانے پڑیں۔ ساتھ ہی بزنس پاسپورٹ Business passport کے اجرا کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرانے کی تیاریوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔
حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل میں پاسپورٹ سروسز کو مزید منظم اور مؤثر بنانے کے لیے ایک خودمختار پاسپورٹ اتھارٹی کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے، جو نظام میں پائیدار اصلاحات لانے میں مددگار ثابت ہو گی۔
اجلاس میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس پاکستان کے حکام سمیت وزارت داخلہ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور مجوزہ اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھئِے


