یوکرین جنگ میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹک نظاموں کے استعمال نے لڑائی کے طریقہ کار میں ایک بڑی تبدیلی پیدا کر دی ہے، جہاں اب مشینیں براہِ راست جنگی کارروائیوں میں کردار ادا کر رہی ہیں۔
حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ برفانی لباس میں ملبوس تین روسی فوجی ایک تباہ حال گلی سے نکل کر ہاتھ اٹھا کر ہتھیار ڈال دیتے ہیں، جبکہ ان کے سامنے ایک خودکار زمینی روبوٹ پر نصب مشین گن انہیں نشانہ بنائے کھڑی ہوتی ہے۔ یہ ویڈیو یوکرینی دفاعی کمپنی DevDroid نے جاری کی، جس کے بارے میں دعویٰ ہے کہ اس میں AI روبوٹ کے ذریعے دشمن فوجیوں کو گرفتار کیا گیا۔روبوٹ نے اسر ایک بزرگ خاتون کو بھی ریسکیو کیا۔
یوکرینی صدر کا دعویٰ
یوکرین کے صدر ولادی میر زولینسکی Volodymyr Zelenskyy کے مطابق اپریل میں پہلی بار ایسا ہوا کہ دشمن کی ایک پوزیشن مکمل طور پر بغیر انسانی شرکت کے، صرف ڈرونز اور زمینی روبوٹک نظاموں کے ذریعے حاصل کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ محض تین ماہ میں 22 ہزار سے زائد مشنز میں ان ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جا چکا ہے۔
In March, over 9,000 combat and logistical missions were conducted on the frontline using ground robots. For comparison, there were over 2,900 such missions in November last year, and over 7,500 in January 2026.https://t.co/fFOd0nfhkR
— Defense of Ukraine (@DefenceU) April 7, 2026
رپورٹس کے مطابق اب محاذِ جنگ پر اسلحہ، خوراک اور طبی سامان کی ترسیل کا بڑا حصہ روبوٹک نظام انجام دے رہے ہیں، جبکہ زخمیوں کو نکالنے جیسے خطرناک کام بھی انہی کے سپرد کیے جا رہے ہیں۔
جنگ میں تیسرا بڑا انقلاب
ماہرین اس پیش رفت کو جنگ کی “تیسرا بڑا انقلاب” قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی دور میں استعمال ہونے والے ڈرونز، جیسے MQ-1 Predator، صرف ریموٹ کنٹرول کے تحت کام کرتے تھے، مگر اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے نظام تیار ہو رہے ہیں جو خود ہدف کی نشاندہی اور کارروائی میں معاونت کرتے ہیں۔
تاہم اس ٹیکنالوجی نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے، خاص طور پر خودکار ہتھیاروں کے استعمال اور انسانی کنٹرول کے مستقبل کے حوالے سے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر AI کو زیادہ خودمختاری دی گئی تو جنگیں تیز تر، زیادہ مہلک اور انسانی نگرانی سے باہر ہو سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس حوالے سے ضابطہ سازی پر غور کر رہے ہیں، جبکہ یوکرین کی جنگ کو نئی جنگی ٹیکنالوجیز کے لیے ایک عملی تجربہ گاہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


