خلیجی خطے میں صورتحال ایک بار پھر انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے،آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان عسکری کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔امریکی فوج کے مطابق پیر کو ایران کی جانب سے امریکی بحری جہازوں اور تجارتی کشتیوں پر متعدد کروز میزائل، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے حملے کیے گئے، جس کے جواب میں امریکی فوج نے ایرانی کی چھ کشتیوں کو تباہ کر دیا۔
فجیرہ پر حملے
جبکہ متحدہ عرب امارات نے ایران پر ڈرون اور میزائل حملوں کا الزام عائد کیا ہے، اماراتی حکام کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں فجیرہ بندرگاہ میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔ فجیرہ کو امارات کی سب سے بڑی بندرگاہ اور تیل ذخیرہ کرنے کی اہم ترین تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے فوراً بعد سول ڈیفنس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی۔
اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے تین میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے جبکہ ایک میزائل سمندر میں گرا۔ حملے کے بعد ساحلی علاقوں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کو اماراتی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے، اور ابوظہبی اپنے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایران کا دعویٰ
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک سینیئر فوجی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا متحدہ عرب امارات کو براہِ راست نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، تاہم تہران کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال
ادھر آبنائے ہرمز strait of Hurmoz میں بھی صورتحال تیزی سے بگڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق ایران نے امریکی بحری جہازوں اور تجارتی کشتیوں پر کروز میزائل، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے حملے کیے، جس کے جواب میں امریکی فورسز نے ایرانی کی چھ کشتیوں کو تباہ کر دیا۔
United States Central Command کا کہنا ہے کہ امریکی پرچم بردار جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزر گئے، تاہم Islamic Revolutionary Guard Corps نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے صرف وارننگ شاٹس فائر کیے گئے، جبکہ امریکی فوج نے واضح کیا ہے کہ ان کے کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں
اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے فوری معاشی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ دیکھی گئی۔ امریکی صدر Donald Trump نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کریں گی۔ توانائی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہی تو امریکہ میں پٹرول کی قیمت 5 ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہے۔
اسی دوران عمان کے علاقے ولایت بخا میں ایک رہائشی عمارت حملے کی زد میں آئی، جس کے نتیجے میں دو غیر ملکی شہری زخمی ہوئے، جبکہ متعدد گاڑیوں اور قریبی املاک کو نقصان پہنچا۔
ایران کے جوہری مزاکرات
خطے میں کشیدگی کے اس ماحول میں عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اس وقت جوہری مذاکرات نہیں کر رہا اور ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے نئی حکمت عملی تیار کر رہا ہے۔
دوسری جانب لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے 10 دیہات خالی کرنے کی ہدایت جاری کی ہے جبکہ ایران نواز Hezbollah اور اسرائیل کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔
تازہ پیش رفت نے نہ صرف خلیج بلکہ پوری دنیا میں توانائی رسد، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام سے متعلق خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
مزید پڑھئِے


